کانگریس ستہ گرہی پارٹی ہے :راہل گاندھی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 26th Feb

رائے پور،26فروری : چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور میں کانگریس پلینری اجلاس کے آخری دن راہل گاندھی نے خطاب پیش کیا۔ راہل گاندھی نے خطاب کے دوران جہاں کشمیر سے کنیا کماری کے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے اپنے تجربات کا اشتراک کیا، وہیں مرکزی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو بھی نشانہ بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا ’’ہم ستیہ گرہی (تحریک چلانے والے) ہیں اور آر ایس ایس اور بی جے پی والے ستا گراہی (اقتددار کو ہضم کرنے والے) ہیں۔‘‘اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں انہون نے اڈانی پر سوال کیا اور پوچھا کہ وہ 609ویں نمبر سے دوسرے نمبر پر کس طرح پہنچے۔ آخر ملک کی پالیسیاں کیا ہیں جو اڈانی کو فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا ’’میں نے پوچھا کہ مودی جی کا اڈانی سے کیا رشتہ ہے جو سب کے سب اس کی حفاظت کر رہے ہیں۔ شیل کمپنیوں میں کس کا پیسہ لگا ہے۔ اس پر تحقیقات کیوں نہیں ہو رہی اور جے پی تشکیل کیوں نہیں دی جا رہی۔ وزیر اعظم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہیں لیکن رشتہ ہے، کیونکہ ملک کا سارا پیسہ ایک شخص کے پاس جا رہا ہے۔‘‘راہل گاندھی نے کہا کہ ہمارے پوچھنے پر پوری کی پوری تقریر کو حذف کر دیا جاتا ہے لیکن ہم پوچھ رہے ہیں اور پوچھتے رہیں گے۔ جو اڈانی کی کمپنی میں کام کرتے ہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ ملک کے خلاف کام کر رہی ہے۔ آزادی کی جنگ بھی ایک کمپنی کے خلاف تھی۔ ملک کے خلاف کام ہوگا تو کانگریس میدان میں آئے گی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس تپسویوں کی پارٹی ہے پجاریوں کی نہیں اور تپسیا بند نہیں ہونی چاہئے۔ ہم سب تپسیا میں خون دیں گے اور یہ پورا ملک تپسویوں کا ملک ہے۔قبل ازیں، راہل گاندھی نے ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے اپنے تجربات اور مشکلات کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے کنیا کماری سے سری نگر تک چار ماہ تک ’بھارت جوڑو یاترا‘ کی۔ آپ نے ویڈیو میں میرا چہرہ دیکھا لیکن لاکھوں لوگ میرے ساتھ چلے تھے۔ ہر ریاست میں چلے۔ بارش میں، گرمی میں، سردی میں، ہم سب ساتھ چلے۔ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔‘‘انہوں نے مزید کہا ’’ابھی جب میں ویڈیو دیکھ رہا تھا تو مجھے چیزیں یاد آ رہی تھیں۔ آپ نے ویڈیو میں دیکھا ہوگا۔ پنجاب میں ایک مکینک آ کر مجھ سے ملا۔ میں نے اس کے ہاتھ پکڑے، سالوں کی تپسیا تھی اس کی۔ وہ درد جو برسوں سے تھا، جیسے ہی میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، میں نے اس کی ہر بات سمجھ لی۔ اسی طرح لاکھوں کسانوں کے ساتھ ملانے اور گلے لگانے سے ہی یہ ایک ٹرانسمیشن سا ہو جاتا تھا۔‘‘انہوں نے کہا ’’شروعات میں بولنے کی ضرورت تھی۔ کیا کرتے ہو، کتنے بچے ہیں؟ کیا مشکلات ہیں یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ تک چلتا رہا۔ اس کے بعد بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ جیسے ہی انہوں نے ہاتھ تھامے، گلے لگایا، خاموشی میں ایک لفظ نہیں بولا جاتا تھا لیکن جو ان کا درد تھا، ان کی محنت تھی، ایک سیکنڈ میں سمجھ جاتا تھا۔‘‘راہل گاندھی نے کہا، آپ نے کیرالہ میں وہ بوٹریج دیکھی ہوگی۔ اس وقت جب میں پوری ٹیم کے ساتھ کشتی میں بیٹھا تھا تو میری ٹانگ میں شدید درد تھا۔ میں اس تصویر میں مسکرا رہا ہوں لیکن اس وقت مجھے رونا آ رہا تھا۔ یہ بہت تکلیف دہ تھا۔ میں نے یاترا شروع کی اور میں بہت فٹ آدمی ہوں۔ غرور تھا کہ جس طرح میں 10-12 کلومیٹر دوڑتا ہوں، اسی طرح 20-25 کلومیٹر پیدل چلنے میں کیا بڑی بات ہے! یہ ایک پرانی چوٹ تھا جو درد کرنے لگی تھی۔ یہ چوٹ کالج میں فٹ بال کھیلتے ہوئے لگی تھی۔ میں بھاگ رہا تھا جب میرا دوست پیچھے سے مجھ سے ٹکرا گیا اور میرے گھٹنے میں چوٹ لگ گئی۔ درد برسوں سے غائب تھا اور اچانک جیسے ہی میں نے یاترا شروع کی تو درد واپس آ گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا ’’آپ میری فیملی ہیں اس لیے میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ صبح اٹھتا تھا تو سوچتا تھا کہ کیسے چلوں! پھر سوچتا تھا کہ 3500 کلومیٹر پیدل چلنا ہے، 25 کلومیٹر نہیں، کیسے چلوں گا! اور پھر کنٹینر سے اتر کر چلنا شروع کر دیتا تھا۔ لوگوں سے ملتا گیا تو 10-15 دنوں میں انا یا جسے آپ غرور کہہ سکتے ہیں، وہ سب غائب ہو گیا۔ غائب کیوں ہوا؟ کیونکہ بھارت ماتا نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ دیکھو! اگر تم کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل نکلے ہو تو اپنی انا اور غرور کو اپنے دل سے نکال دو، ورنہ مت جاؤ! مجھے یہ سننا پڑا، میں اتنا مضبوط نہیں تھا کہ یہ نہ سن سکوں اور آہستہ آہستہ میں نے دیکھا کہ میری آواز خاموش ہو گئی۔ پہلے میں کسان سے ملتا تھا، میں اسے اپنا علم سمجھانے کی کوشش کرتا تھا، میرے پاس جو بھی تھوڑی بہت معلومات ہوتی، زراعت کے بارے میں، منریگا کے بارے میں، کھاد کے بارے میں، میں کہنے کی کوشش کرتا۔ آہستہ آہستہ یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ سکون ہو گیا اور خاموشی سے سننے لگا۔ یہ تبدیلی رفتہ رفتہ آئی اور جب میں جموں و کشمیر پہنچا تو بالکل خاموش ہو گیا۔راہل گاندھی نے کہا ’’ماں ڈائس پر بیٹھی ہیں، یہ 1977 کی اس وقت کی بات ہے میں بچہ تھا۔ الیکشن آیا، مجھے الیکشن کا علم نہیں تھا۔ میری عمر 6 سال تھی۔ ایک دن گھر میں عجیب سا ماحول تھا۔ میں ماں کے پاس گیا، میں نے ماں سے پوچھا کیا ہوا ماں؟ ماں نے کہا کہ ہم گھر چھوڑ رہے ہیں۔ تب تک میں سمجھتا تھا کہ وہ ہمارا گھر ہے۔ میں نے ماں سے پوچھا کہ ماں ہم اپنا گھر کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ پہلی بار میری ماں نے مجھے بتایا کہ یہ گھر ہمارا نہیں ہے۔ یہ سرکاری گھر ہے، اب ہمیں جانا ہوگا۔ میں نے ماں سے پوچھا کہ ہم نے کہاں جانا ہے تو انہوں نے کہا پتہ نہیں کہاں جانا ہے؟ میں حیران رہ گیا۔ اب 52 سال ہو گئے اور میرے پاس اب بھی گھر نہیں ہے۔ ہمارے خاندان کا گھر، وہ الہ آباد میں ہے۔ وہ بھی ہمارا گھر نہیں ہے۔ میں 12 تغلق لین میں رہتا ہوں لیکن یہ میرے لیے گھر نہیں ہے۔‘‘