کرناٹک میں لڑکیوں نے اسکارف پہن کر امتحان دینے کی اجازت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 22nd Feb

نئی دہلی،22 فروری: چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) ڈی وائی چندرچوڑ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ کرناٹک کی کچھ مسلم طالبات کی درخواست کی سماعت کے لیے فہرست بنانے پر فیصلہ کریں گے، جنہوں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ وہ ریاستی پری یونیورسٹی کالجس میں حجاب پر پابندی کے بعد نجی کالجوں میں منتقل ہو گئی ہیں۔ لیکن سرکاری کالجوں میں امتحانات دینے کے لیے اُنہیں اسکارف پہننے پر پابندی ہے۔درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ایڈووکیٹ شادان فراست نے کہا کہ حجاب پر پابندی کے چلتے طالبات پہلے ہی اپنا ایک سال گنوا چکی ہیں اور درخواست کی فوری فہرست مطلوب ہے۔عدالت نے جاننا چاہا کہ انہیں امتحان دینے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے جس پر وکیل نے کہا کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ وہ سر پر اسکارف پہنتی رہی ہیں اور اسکارف پہن کر امتحانی ہال کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔یاد رہے کہ اکتوبر 2022 میں، سپریم کورٹ کے دو ججوں کی بنچ نے 15 مارچ 2022 کو کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیلوں پر الگ الگ فیصلہ سنایا تھا جس میں پری یونیورسٹی کالجوں میں کلاس رومز میں حجاب پہننے پر پابندی کو برقرار رکھا گیا تھا۔ایک طرف جسٹس ہیمنت گپتا (اب ریٹائرڈ) نے پابندی کو درست کرنے والے ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا تھا اور کہا تھا کہ یہ صرف کلاس رومز میں یکسانیت کو فروغ دینے اور سیکولر ماحول کی حوصلہ افزائی کے لیے تھاتو دوسری طرف جسٹس سدھانشو دھولیا نے ریاست اور ہائی کورٹ کے احکامات کے برخلاف کہا تھا کہ طالبات کو کلاس رومز میں حجاب پہننے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کے انتخاب کا معاملہ ہے اور یہ ان کابنیادی حق ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس معاملے کی سماعت تین ججوں کی بنچ کو کرنی ہے۔ چونکہ چیف جسٹس آف انڈیا اس معاملہ میں حتمی اختیار رکھتے ہیں، چنانچہ وہ بتائیں گے کہ اس معاملہ کی سماعت کونسا بینچ کرے گا اور اس بینچ میں کون کون ہوں گے۔اسکارف پہننے پر پابندی کے معاملے پر عدالت عظمیٰ کے الگ الگ فیصلے کے بعد، حجاب والی لڑکیوں کو 9 مارچ سے شروع ہونے والے امتحانات میں شرکت کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ کو بتایا گیا۔