کیا اب اسے سی بی آئی….پر ہی بھروسہ ہے ؟

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th Feb

دہلی حکومت کی نئی ایکسائز پالیسی2021-22) ) نے اسے پریشان کر کے چھوڑ دیا ہے۔ اس مبینہ گھوٹالے کو لیکر پورے ملک میں جاری سیاسی ہنگامے کے درمیان ، اس معاملے میں گرفتار نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کو راؤس ایونیو کورٹ نے کل پانچ دن کے سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا ۔قابل ذکر ہے کہ منیش سسودیا کو اس معاملے میں آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کے بعد اتوار کی شام کو گرفتارکرکے کل سوموارکو عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔پیشی کے بعد خصوصی جج ایم کے ناگپال نے منیش سسودیا کو پانچ دن کے سی بی آئی ریمانڈ پر بھیج دیا۔
منیش سسودیا کی گرفتاری کے بعد عام آدمی پارٹی سمیت تقریباََ تمام اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈر مرکز اور بی جے پی پر حملہ آور ہیں۔وہ اسے انتقامی سیاست کا نام دے رہے ہیں۔ اس دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کا بیان بھی آیا ہے۔ سسودیا کو بہادر بتاتے ہوئے ڈیرک نے اشاروں اشاروں میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو تنقید کانشانہ بنایا۔ ڈیرک اوبرائن نے ٹویٹ کرکے طنزیہ لہجے میں کہا تھا کہ اگر منیش سسودیا خود کو بی جے پی کی واشنگ مشین بنا لیتے تو انہیں کبھی گرفتار نہیں ہونا پڑتا۔ٹویٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا اتحادی شیو سینا، اکالی دل، جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور دیگر نے بی جے پی چھوڑ دی ہے۔ اب صرف سی بی آئی، ای ڈی اور آئی ای ٹی ہی اس کے حقیقی ساتھی ہیں۔ اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانا اس ’’بے بس جوڑے‘‘ کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔واضح ہو کہ منیش سسودیا کی گرفتاری گزشتہ سال جون میں دہلی کے اس وقت کے وزیر صحت ستیندر جین کی گرفتاری کے بعد ہوئی ہے۔ جانچ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایکسائز پالیسی کی تشکیل اور نفاذ دونوں میں بے ضابطگیاں تھیں اور اس کا مقصد مبینہ طور پر اے اے پی سے وابستہ لوگوں کی حمایت کرنا تھا۔
بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی ایکسائز پالیسی میں مبینہ بدعنوانی دہلی حکومت کے گلے کا پھندا بن گئی ہے۔ سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ اے اے پی لیڈروں اور کئی عہدیداروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب دہلی کی نئی ایکسائز پالیسی 2021 میں نافذ ہوئی تو دعویٰ کیا گیاتھا کہ ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ لیکن ہوا کچھ دوسرا۔یعنی دہلی حکومت کی مشکلات میں ہی اضافہ شروع ہو گیا ہے۔ کہنے والے اب یہی کہہ رہے ہیں کہ ایک سال بھی نہیں گزرا کہ ایکسائز پالیسی کرپشن کے الزامات میں پھنس گئی۔ جب ایل جی ونے کمار سکسینہ نے سی بی آئی جانچ کو منظوری دی تو سیاسی ہنگامہ بھی شروع ہوگیا۔ سسودیا کی گرفتاری سے یہ ہنگامہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔
واضح ہو کہ نومبر 2021 میں، دہلی حکومت نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ نئی ایکسائز پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ اس کی وجہ سے دہلی میں شراب بہت سستی ہو گئی ۔ خوردہ شراب فروشوں کو بھی چھوٹ دینے کی اجازت مل گئی۔ تاہم بی جے پی کا الزام ہے کہ شراب کے لائسنس کی تقسیم میں دھاندلی ہوئی ہے۔ جولائی 2022 تک سیاسی گرمی اتنی شدید ہوگئی کہ لیفٹیننٹ گورنر نے چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کر لی۔ رپورٹ کی بنیاد پر ایل جی نے سی بی آئی انکوائری کو منظوری دے دی۔ اسی معاملے کی جانچ جب آگے بڑھی ہے تو سی بی آئی نے منیش سسودیا کو گرفتارکر لیا ہے۔ سی بی آئی نے اس معاملے میں 15 افراد اور نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ سسودیا کو ملزم نمبر۔1بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی کی ایف آئی آر میں منیش سسودیا، اروا گوپی کرشنا، آنند تیواری، پنکج بھٹناگر، وجے نائر، منوج رائے، امندیپ دھلمیر مہیندر، امیت اروڑہ، بڑی ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ، دنیش اروڑہ، مہادیو شراب، سنی مارواہ، ارون رامچندر پلئی، ارجن پانڈے، نامعلوم سرکار، اور پرائیویٹ پرسن، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی دہلی شراب گھوٹالہ کیس کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس نے رواں ماہ اس معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
بعض سیاسی مبصرین مینش سسودیا کی گرفتاری کو بی جے پی کے سیاسی کردار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی عوامی ایشوز سے لوگوں کے ذہن کو موڑنے اور اپوزیشن کو دباؤ میں رکھنے کے لئے ایسا کر رہی ہے۔جیسے جیسے 2024 نزدیک آتا جائے گا اپوزیشن پر اس کا دباؤ بڑھتا ہی جا ئے گا۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کے اس مبینہ کردار کو بے نقاب کرنے کی مہم چلا رہی ہیں۔ ایم پی ڈیرک اوبرائن کا یہ کہنا ’’ اتحادی شیو سینا، اکالی دل، جے ڈی یو، ٹی ڈی پی اور دیگر نے بی جے پی چھوڑ دی ہے۔ اب صرف سی بی آئی، ای ڈی اور آئی ای ٹی ہی اس کے حقیقی ساتھی ہیں۔‘‘اسی مہم کی ایک کڑی ہے۔یہ مہم کتنی کامیاب ہوگی یہ تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے وقت ہی پتہ چلے گا۔