! ہماری حالت تب تک نہیں بدل سکتی ہے

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 24th Feb

قر آن شریف کی ایک آیت کا ترجمہ ہے ’’بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک خود وہ اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے‘‘ اس آیت کریمہ کے تناظر میںآج اگر ہم خود کو دیکھیں تو یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے حالات اس لئے نہیں بدل رہے ہیں کیونکہ ہم خود ہی نہیں بدلنا چاہتے ہیں۔آج کے معاشرے کا حال یہ ہے کہ اگر کوئ ایک شخص دھوکہ دیتا ہے تو اسکی دیکھا دیکھی دوسرے لوگ بھی وہی شروع کردیتے۔ چوری کرنا دوسروں کا حق مارنا، مجبوری کا فائدہ اٹھا کر پیسے اینٹھنا ……۔غرض یہ چیز ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے کہ جو جیسے چاہتا ہے، بس اپنے فائدے کے لئے وہی کرتا ہے اور لوگ اسکو روکنے کے بجائے عموماََ وہی کام شروع کردیتے۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بدل جائیں مگر ہم خود بدلنا نہیں چاہتے۔اپنی قوم کے بگاڑ میں اس قوم کا ہی اپنا ہاتھ ہے ۔ہم اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام میں بھی بے ایمانی اور دھوکہ دہی کرنا نہیں چھوڑتے ۔ہر برائ کی جڑ خود ہم سے ہی جڑی ہوتی ہے ۔۔اگر کسی بھی برائ کو ختم کرنا ہے تو خود سے شروع کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں کی تنقید و تنقیص سے ۔ہمارے معاشرے میں منافقت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ جو غلط کام ہم خود کررہے ہوتے اسی پر دوسروں کو کھلم کھلا لعنت ملامت کرتے ہیں۔ آخر ہم دوسروں پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان کیوں نہیں جھانکتے ۔لوگوں کو جج کرنا ہمیں خوب آتا ہے، مگر خود اپنے کردار کا تجزیہ کرنا کسی کو کیوں نہیں آتا ہے ؟ ہمیں اپنے معاشرے سے ڈھیروں شکایتیں ہیں مگر ان شکایتوں کو ہم خود میں سے دور کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں دوسروں کو ان کے غلط کام پر ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرنا خوب آتا ہے مگر ہماری اپنی باری پتہ نہیں کبھی کیوں نہیں آتی ہے!
آج اگر ہمیں اپنے معاشرے سے چھوٹی برائیوں سے لیکر بڑی برائیوں تک کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کی شروعات خود سے ہی کرنی ہوگی۔ جو کام اگر کوئ دوسرا کرے اور ہمیں برا لگے دیکھیے کہ وہی کام کہیں آپ خود بھی تو نہیں کرتے ہیں؟ اگر کرتے ہیں تو پہلے خود کے اندر سے اس برائ کو دور کریں تبھی وہ برائ باقی معاشرے سے بھی دور ہوگی وگرنہ کبھی نہیں ۔ہر برائ کو دور کرنے کی ابتدا خود سے کرنے سے ہی اس برائی کا تدارک ممکن ہے۔یعنی پہلے خود بدلیں اسکے بعد ہی حالات کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔بصورت دیگر حالات کا بدل جانا بس ایک خواب ہی رہ جائے گا۔
آج ہمارے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے چکی ہیں ۔ہم اخلاقی پستی کا شکار ہوچکے ہیں ۔وہ تعلیمات جو اللہ اور اسکے رسول نے ہمیں دی ہیں، انہیں تو ہم بس کتابوں میں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اسکے آگے اپنی زندگی میں اسے لاگو کرنے کا تو ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔وہ تعلیمات جو ہماری زندگیوں کے لئے نمونے اور ہمارے لیے مشعل راہ تھے، ان کوہم نےبس کتابوں اور تاریخ کا حصہ بناکر رکھ دیا ۔جبکہ ان ساری تعلیمات کو آج ہماری زندگیوں کا حصہ ہونا چاہیے تھا ۔لیکن ہم نے انھیں پس پشت ڈال دیا ۔پھر جب ہم ناکام ہیں تو اسکا سارا قصور وار ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں۔ جبکہ اصل قصور وار تو ہم ہی ہیں۔ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں جھوٹ بولنا نہیں چھوڑتے ۔دھوکہ دینا نہیں چھوڑتے ۔تو پھر سوال یہ ہے کہ بڑے معاملات میں ہم کیسے سچ بول پائیں گے؟
آج اگر کوئ اور بھی سچائ پہ گامزن ہوتا ہے تو ہم اسکا ساتھ تک نہیں دے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حق کیا ہے، ہم یہ جان ہی نہیں پاتے ہیں۔ہر چمکتی چیز کی طرف ہم دوڑتے ہیں۔ ہر گناہ کی طرف ہم بھاگے بھاگے جاتے ہیں ۔ہم اپنا مقصدحیات تو تقریباََ بھول ہی چکے ہیں۔ہماری زندگی کا مقصدبس دولت اور شہرت کمانا رہ گیا ہے۔جبکہ ہماری زندگی کا اصل مقصد تو اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا تھا ،جس کے لئے ہمیں اس دنیا میںبھیجا گیا ہے۔آئیے اپنے بگڑے ہوئے معاشرے کو برا بھلا کہنے سے پہلے خود کو بدلنے کا عہد کریں۔یقین جانیں ہماری حالت تب تک نہیں بدل سکتی ہے ؛ جب تک کہ ہم خود کو نہیں بدل ڈالیں گے۔
*************************