ہم آخری آدمی تک علم کی دولت پہنچانا چاہتے ہیں، سیدنا کی چار نسل سے میراتعلق رہا: وزیراعظم نریندر مودی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 10th Feb

ممبئی ،10،فروری:آج عروس البلاد ممبئی میں مضافاتی علاقے مرول ،اندھیری میں بوہرہ فرقہ کی دینی درس گاہ ادارہ الجامعۃ السیفیہ کی نئی عمارت اور کتب خانہ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ ملک کی ترقی میں سب کا حصہ ہے اور اس ترقی میں ہماری کوشش ہے کہ کوئی پچھڑ نہ جائے۔ہم آخری آدمی تک علم۔کی۔دولت پہنچانا چاہتے ہیں۔انہوں نے ابتداء میں کہاکہ بوہرہ فرقہ ان کے خاندان کی طرح ہے اور انہیں وزیراعظم اور وزیراعلی نہ جائے۔دراصل مفضل صاحب کی چار نسلوں سے ان کا رابطہ ہے۔مودی نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ بوہرہ مسلم۔فرقہ تعلیم اور تجارت پر توجہ دیتا ہے اور اس کا ملک کی ترقی میں شرکت رہی ہے۔
وزیراعظم مودی نے کہاکہ مرحوم سیدنا سیف الدین نے ریاست کے لیے کچھ کرنے کے متعلق دریافت کیا تو مودی نے انہیں پانی کے بحران سے آگاہ کیا ،تب سے بوہرہ فرقہ گجرات میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے ہرممکن تعاون کررہے ہیں۔وزیراعظم نے نئی تعلیمی پالیسی کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ سبھی کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔انہوں نے ماضی ذکرتے ہوئے کہاکہ دلت ،کمزور اور پسماندہ طبقات کو نظرانداز کیا جاتا تھا۔
وزیراعظم نے قرآن مجید کے قدیم نسخہ کو ڈیجیٹل کرنے کا مشورہ بھی دیا۔اس سے قبل مفضل سیف الدین نے وزیراعظم نریندر مودی کا استقبال کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے ہمیشہ بوہرہ فرقے کے دکھ درداور خوشی میں حصہ لیا ہے،اور ہماری دعا ہے کہ ان کی قیادت میں۔ ہندوستان تیزی سے ترقی کرے۔انہوں ان کے خاندان اور وزیراعظم مودی کے باہمی تعلقات کاذکر کیا ہے۔ 
سیدنا مفضل سیف الدین نے واضح طور پر کہاکہ علم حاصل کرنے کے لیے حضور محمدصلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ہمیشہ زور دیا جبکہ حضرت علی کا رسول اللّٰہ نے علم کے شہر کا دروازے قرار دیا ۔
اس سے قبل وزیراعظم نریندر مودی کی آمد پر داؤدی بوہرہ کے روحانی پیشوا نے ان کا استقبال کیا اور کتب خانہ کے افتتاح کے بعد کتب خانہ کا دورہ کیا اور انہیں تفصیل سے آگاہ کیا۔ابتداء میں سیدنا کے صاحبزادہ نے تلاوت قرآن کی ،جن میں سوری الضحیٰ اوراقراءبسم شامل تھی۔اس موقعہ پر وزیراعلی ایکناتھ شندے ،نائب وزیراعلی دیویندر فڑنویس ،وزیر شہری ترقیات منگل پرتاپ لودھا اور دیگر افراد ومعززین بھی شریک رہے۔
واضح رہے کہ ڈائودی بوہرہ سماج کے چوتھے عربک اکیڈمی جس کا افتتاح کرنےکیلئے وزیر اعظم نریندر مودی ممبئی پہنچ چکے ہیں،یہ ادارہ الجامعۃ السیفیہ سےبھی مقبول ہے۔ ۱۹۶۰ءمیں وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھی سورت کے عربک اکیڈمی کا دورہ کیاتھا۔ادارہ کے ذریعے بالخصوص بوہرہ جماعت کے نوجوانوں میں لیڈرشپ کوالیٹی اور ان کی تعلیم وتربیت کا کام کیاجاتاہے۔
الجامعۃالسیفیہ عربک اکیڈمی جسے عرف عام میں جامعہ سے بھی مخاطب کیاجاتاہے،دائودی بوہر ہ سماج کا ایک اہم اور اولین تعلیمی ادارہ ہے۔دائودی بوہر ہ سماج کے ۵۳؍ویں داعی المطلق سیدنا مفضل سیف الدین کی سربراہی میں ادارہ ھذا ترقی اورکامیابی کے منازل طے کررہاہے۔  دائودی بوہرہ سماج کے نوجوان مرد وخواتین میں لیڈر شپ کی کوالیٹی پیدا کرنے ،عالمی سطح پر لوگوںکی خدمت کرنے کےعلاوہ وہاں کی قدروں، اُصولوں اور رول ماڈل سےمتعلق دائودی بوہر ہ کے نوجوانوںکو تعلیم دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے سماج کیلئے خدمات پیش کرسکیں۔ 
 جامعہ کی ۲۰۰؍سالہ تاریخ کے دوران کئی اہم اور اعلیٰ مرتبہ شخصیات نے یہاں کا دورہ کیا ہے ۔ ان میں متعدد ممالک کے اعلیٰ سربراہ بھی شامل ہیں۔ ۱۹۶۰ءمیں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہر و نے ،وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہوتے ہوئے گجرات کا دورہ کیاتھا۔ اس دوران انہوںنے سورت میں واقع جامعہ کا دورہ کیاتھا۔ اس موقع پر جامعہ میں متعارف کروائی جانےوالی نئی سرگرمیوں اور سہولیات کاپنڈت جواہر لال نہرو نے افتتاح کیاتھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اس مو قع پر کہاتھاکہ ’’ مجھے اُمید ہےکہ یہ اکیڈمی اسی طرح کامیابی سے جاری رہےگی اور ملک کے ماضی کے علاوہ حال کی ثقافت اور خوبصورتی سے قوم کو فیضیاب کرےگی۔ ‘‘ ۱۹۸۳ءمیں پاکستان کے صدر محمد ضیا الحق نے کراچی میں دوسرے جامعہ اور ۲۰۱۷ءمیں،اور کنیا کے صدر اُہورو کنیتا نے نیروبی میں جامعہ کے تیسرے مرکز کا افتتاح کیاتھا۔ 
 جامعہ کی تاریخی اہمیت ، تعلیمی خدمات اور دائودی بوہر ہ سماج کی ترقی اور کامیابی میں جامعہ کے رول سے متعارف کروانےکیلئے ممبئی کےشمال مغربی علاقہ مرول ( اندھیری )میں چوتھے جامعہ سینٹر( عربک اکیڈمی )کے افتتاح کےموقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کو مدعوکیاگیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نےدائودی بوہرہ سماج کی دعوت قبول کرلی ۔
یواین آئی/اے اے اے