Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 10th March
لکھنؤ۱۰؍مارچ: احباب فاؤنڈیشن، لکھنؤکے زیر اہتمام فخرالدین علی احمد میمورئیل کمیٹی، حکومت اتر پریش، لکھنؤ کے تعاون سے خواتین کے خصوصی مشاعرے کا انعقادآل انڈیا کیفی اعظمی اکیڈمی، نشاط گنج پیپر مل کالونی، لکھنؤ میں کیا گیا۔ ’ایک شام خواتین کے نام: مشاعرہ و ایوارڈ تقریب‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس خصوصی پروگرام کی صدارت معروف سماجی کارکن محترمہ طاہرہ حسن نے کی۔اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی کی پہلی دہائی میںمیں امریکہ کی سوشلسٹ پارٹی نے خواتین کے مسائل حل کرنے کے لئے ’’وومین نیشنل کمیشن‘‘ بنایا اور اس طرح بڑی جدوجہد کے خواتیں کے حقوق سے متعلق مطالبات مان لئے گئے اور فروری کی آخری تاریخ کو پہلی بار خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔سال ۱۹۷۵ میں اس دن کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھی ۸ مارچ کو یوم خواتین مان کر اپنے کیلینڈر میں شامل کرلیا جو خواتین کے حق میں ایک بڑی کامیابی مانی جاتی ہے۔پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر فخرالدین علی احمد میمورئیل کمیٹی کے چیئر مین جناب اطہر صغیر زیدی (تورج زیدی) شامل ہوئے اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بڑے فخر کی بات ہے کہ خواتین کے حوالے سے پوری دنیا بھر میں مختلف ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اردو داں طبقہ بھی اس میں کہیں کمتر نہیں ہے۔ آج کا یہ پروگرام اس بات کی ضمانت ہے۔پروگرام کے سرپرست ڈاکٹر عمار نگرامی نے کہا کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں جو اس کے خالق نے ایک امتیاز رکھا ہے اس امتیاز کے تقاضوں کو وہ مد نظر مرد اساس معاشرے میںان کے تقدس و پاکیزگی کے احترام کے ساتھ خواتین سے ہمدردی اور محبت کا عملی ثبوت دیا جانا چاہئے تاکہ خواتین کے اندر سے احساس کمتری ختم ہو اور وہ پوری دنیا میں مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان عمل میں بلا خوف و خطر اپنے وجود کا احساس کرا سکیں۔ احباب فاؤنڈیشن کے صدر جناب اقبال اعظمی مدنی نے عالمی یوم خواتین کے خوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے احترام اور ان کی قدردانی میں ہی اس مرد اساس معاشرے کی فلاح و بہبود پوشیدہ ہے۔دنیا و آخرت میں کامیاب ترین انسان کے لیے اس کی زندگی میںایک عورت ماں، بہن ،بیٹی یا بیوی کی شکل میں ایک لازمی جز کی مانند ہوتی ہے۔اس لیے اس مرد اساس معاشرے میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے تئیں عدل وحقوق کے معاملات کو اپنا فرض عین سمجھیں۔ عالمی یوم خواتین کے حوالے سے احباب فاؤنڈیشن کے سکریٹری محمد خالد اعظمی نے اظہار خیال کیا کہ اس دن خواتین کی ثقافتی،سیاسی،معاشی اور سماجی حصولیابیوں کا جشن منایاجاتاہے۔ اس دن زندگی کے تقریباً ہرشعبے میں خواتین کے غیرمعمولی رول کو بھی اجاگر کیاجاتاہے اور عام خواتین کے عزم اور حوصلے کا جشن منایاجاتاہے۔بطور مہمانان اعزازی ڈاکٹر لبنیٰ کمال اور جیوتی سنہا اور معروف سماجی کارکن روبینہ مرتضیٰ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اس خصوصی موقع پرپروفیسر فرزانہ عباس مہدی ،پرووائس چانسلر، ایرا میڈیکل یونیورسٹی، لکھنؤکو ان کی بہترین طبی خدمات کے لیے خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔یہ ایوارڈ ان کو فخرالدین علی احمد میمورئیل کمیٹی کے چیئر مین جناب اطہر صغیر زیدی (تورج زیدی)اور آل انڈیا مسلم انٹلیکچول سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عمار انیس نگرامی کے بدست دیا گیا۔اس موقع پر خواتین کے خصوصی مشاعرے میں معروف شاعرہ ڈاکٹر نسیم نکہت (لکھنؤ)، محترمہ نیلو فر نور(ہاپوڑ)،محترمہ تارا اقبال (رائے بریلی)، محترمہ سلمہ حجاب،محترمہ ساجدہ صبا ، محترمہ روبینہ ایاز، محترمہ صدف ناز جیسی اہم شاعرات نے اپنا کلام پیش کیا۔شاعرات کے کلام کے نمونے پیش ہیں۔

