Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th March
کٹیہار (عمر مُرشد) 6 مارچ :الھدٰی اکیڈمی میں بچوں کی جانب سے ماحولیات کے تحفظ پر دیا زور دیا گیا۔ اس موقع پر بچوں کی جانب سے شجر کاری، پانی نہ برباد کرنے اور صاف ستھرائی پر خصوصی پیغام دیا گیا۔ اس موقع پر اسکول کے ڈائریکٹر ندیم احمد نے کہا کہ کائنات بنی نوع انسان کے لیے اللہ کی قدرت کا ایک نایاب تحفہ ہے جسے خود انسانوں ہی کے ذریعے دھیرے دھیرے پراگندہ اور آلودہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب جبکہ اس کے برے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں تو ہم اس کی خوب صورتی،دل کشی اور توازن کو قائم رکھنے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ان دنوں ماحولیات کا تحفظ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکزبنا ہوا ہے۔ وہیں ادارے کے پرنسپل عمر بن مُرشد نے اظہارِ خیال کیا کہ ہم نے اس زمین کو جس پر ہم بستے ہیں غلاظتوں اور گندگی کا انبار بنادیا ہے، اس بات سے بے خبر کہ انسانی زندگی اس کے مہلک اثرات کا شکار ہورہی ہے۔ جنگلوں میں درختوں کو اس بے دردی سے کاٹاجارہا ہے کہ اس کے اثرات موسموں پر صاف جھلکنے لگے ہیں۔ ہوا جو سبھی جانداروں کے لیے ضروری ہے وہ کارخانوں کی چمنیوں سے نکلتے دھوئیں، کیمیاوی تجربہ گاہوں سے چھوڑے گئے کچرے اور سڑکوں پر چلتی ہوئی موٹر گاڑیوں کی کثافتوں سے اس قدر آلودہ ہوچکی ہے کہ انسان مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں میں گرفتار ہورہا ہے جو اپنے اثرا ت جلد سے لے کر پھیپھڑے تک پر دکھا رہی ہے جس کی عبرت ناک مثال گزرے دنوں میں ’ سارس‘ نامی بیماری ہے۔ سائنس کے اُستاد محمد اخلاق نے بچوں سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سائنس دانوں نے بہت پہلے اپنی تحقیق سے لوگوں کو آگاہ کیا ہے کہ اوزون نامی گیس کی پرت جو سورج کی شعاعوں میں موجود الٹراوائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچاتی ہے اس میں سوراخ ہوگیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم نے اپنا نظام بدل دیا ہے۔ یہ انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہے۔ پانی جو کسی بھی جاندار کے لیے دوسری بنیادی چیز ہے اور جس کے بغیر جانداروں کی زندگی کا تصور ناممکن ہے اسے بھی ترقیاتی دور نے زہریلا بنانے سے گریز نہیں کیا۔ ملک کی سبھی ندیاں، جھیل و تالاب آلودہ ہوچکے ہیں۔ ان کے توسط سے کیمیاوی مادے اور ان کے زہریلے اثرات انسانی جسم میں منتقل ہوکر نئی نئی بیماریوں کا سبب بن رہے ہیں۔ پچھلی دہائی میں کئی قومی جنگیں ہوئیں جن میں آتشیں اور جوہری ہتھیاروں کا کھل کر استعمال ہوا۔ حد یہ ہے کہ لیزر شعاعوں کا بھی استعمال ہونے لگا۔ ایسے ہتھیار نہ صرف انسانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ماحولیات پر بھی مضر اثرات ڈالتے ہیں، ان کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں ماحولیات کا توازن ہچکولے کھانے لگتا ہے۔ اس موقع پر عمار مرشد خوشناما پروین ،رونق پروین، ریشمی پروین، علیزہ پروین، سنجر عالم ، کہکشاں پروین، آسیہ پرین، احمد رضا رضا ، اسلم ، ریحان احمد ، الطاف رضا کے ساتھ اسکول کے سارے افراد موجود تھے ۔

