Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th March
پیانگ یانگ، 14 مارچ :امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان شروع ہوئی مشترکہ فوجی مشق کی شمالی کوریا مسلسلمخالفت کر رہا ہے ۔ مشق شروع ہوتے ہی شمالی کوریا نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار میزائل داغے۔ ان میں آبدوز سے دو کروز میزائل اوردوکم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں۔امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ فوجی مشق 13 مارچ کو شروع ہوئی ہے ۔ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ سے 23 مارچ تک ہونے والی فوجی مشقوں کو روکنے کی اپیل بھی کی ہے۔ شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم سون گیونگ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ فوجی مشق اور اتحادیوں کی بیان بازی نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان کشیدگی کو “انتہائی خطرناک سطح” تک پہنچا دیا ہے۔ اس لیے اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے ۔
ادھر شمالی کوریا نے بھی میزائل تجربات تیز کر دیے ہیں۔ شمالی کوریا نے فوجی مشق شروع ہوتے ہی لگاتار چار میزائل داغ کر جوابی کارروائی کی ہے۔ جنوبی کوریا نے ان تجربات کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوب۔ مغربی ساحلی شہر جانگیونگ سے داغے گئے میزائلوںنے ملک کے شمالی ساحل کے قریب سمندر میں گرنے سے قبل شمالی کوریا کے اوپر سے اونچی پرواز بھری تھی۔ میزائلوں نے تقریباً 620 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔رپورٹ کئے گئے پرواز کے فاصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل تجربے کا مقصد جنوبی کوریا تھا۔ انہوں نے ان تجربات کو ایک سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا اور کہا کہ اس سے جزیرہ نما کوریا کے استحکام کو نقصان پہنچا ہے۔
دریں اثنا، امریکی فوج کی جانب سے یو ایس ۔انڈو پیسیفک کمانڈ نے کہا کہ منگل کے تجربے سے اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں ہے۔ لیکن شمالی کوریا کے حالیہ تجربات اس کے غیر قانونی ہتھیاروں کے پروگراموں کے غیر مستحکم اثرات کو اجاگر کرتے ہیں۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے امریکی سیکورٹی جاری رہے گی۔ جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا نے کہا کہ حکام ابھی بھی شمالی کوریا کے میزائل لانچوں کی تفصیلات جمع کر رہے ہیں اور جاپانی پانیوں میں کسی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ہے۔

