انکائونٹر میں مارے گئے ملزم وجے عرف عثمان پرتھا50ہزار روپے کا انعام

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th March

پریاگ راج،6مارچ: اترپردیش کے پریاگ راج کے مشہور قتل کیس میں ملوث ملزم وجے عرف عثمان چودھری آج ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ وجے عرف عثمان ملزم شوٹر تھا جس نے سب سے پہلے امیش پال کو گولی ماری۔ پولیس نے اس پر 50,000 روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہیکہ امیش پال قتل کیس میں مافیا عتیق احمد کے تیسرے بیٹے اسد سمیت پانچ ملزمان پر ڈھائی لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا گیا ہے۔امیش پال قتل کیس کا ملزم وجے عرف عثمان پیر کی صبح پریاگ راج پولس کے ساتھ ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ 24 فروری کو عثمان نے پہلی گولی امیش پال پر چلائی جو بہوجن سماج پارٹی کے سابق ایم ایل اے راجو پال کے قتل کے اہم گواہ تھے۔ انکاؤنٹر میں عثمان کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے دھوم گنج تھانے کے انچارج راجیش کمار موریہ نے بتایا کہ وجے عرف عثمان صبح 5.30 بجے کے قریب کاندھیارہ تھانہ علاقے میں پولیسمڈبھیڑ میں مارا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عثمان اومیش پال اور دو دیگر پولیس اہلکاروں کو گولی مارنے کے واقعے میں ملوث تھا اور عثمان نے ہی اومیش پر پہلی گولی چلائی تھی۔ اس سے قبل 27 فروری کو امیش پال قتل کیس کے ملزم ارباز کو دھومن گنج تھانہ علاقے کے تحت نہرو پارک جنگل میں پولیس کے ساتھ انکاؤنٹر میں مارا گیا تھا۔ اس تصادم میں دھوم گنج تھانہ انچارج راجیش موریہ زخمی ہو گئے۔قابل ذکر ہے کہ 24 فروری کو دھما گنج تھانہ علاقے میں امیش پال اور ان کے دو سیکورٹی اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ سارا واقعہ سی سی ٹی وی کیمروں میں قید ہو گیا جس کی مدد سے زیادہ تر فائرنگ کرنے والوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ امیش پال کی بیوی جیا پال نے واقعے کے اگلے دن سابق رکن اسمبلی عتیق احمد، ان کے بھائی اشرف، بیوی شائستہ پروین، عتیق کے دو بیٹوں، عتیق کے ساتھی گڈو مسلم اور غلام اور دیگر 9 افراد کے خلاف دھوم گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی۔