Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th March
راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت کے خاتمے کے ایشو پر کانگریس اب آر پار کے موڈ میں ہے۔ دیگر اپوزیشن پارٹیاں بھی اب اس کے ساتھ آ گئی ہیں۔کانگریس اور دیگر کئی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے کل سیاہ کپڑے پہن کر احتجاج کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اڈانی کیس میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرہ بھی کیا۔ اپوزیشن لیڈروں نے پارلیمنٹ احاطے میں دھرنا دیا اور وجے چوک تک مارچ نکالا۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی، پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے، کانگریس کے کئی اراکین پارلیمنٹ، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو، آر ایس پی کے این کے پریم چندرن اور کچھ دوسرے لیڈر مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے احتجاج میں شامل ہوئے۔ یہ تمام رہنما کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ مارچ کے دوران رہنماؤں نے ایک بڑا بینر اٹھا رکھا تھا، جس پر’’ستیہ میو جیتے‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پرسن بنرجی نے بھی اس مارچ میں شرکت کی۔ انہوں نے 18 اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں بھی شرکت کی۔ ترنمول کانگریس طویل عرصے کے بعد کانگریس کی طرف سے بلائی گئی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ اور مظاہرے میں شامل ہوئی تھی۔
اِدھرراجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راہل گاندھی کی نااہلی کے خلاف احتجاج کی حمایت کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وجے چوک پر صحافیوں سے کہا،’’ہم کالے کپڑے پہن کر آئے ہیں کیونکہ ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مودی جی ملک میں جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔ پہلے خود مختار اداروں کو ختم کیا گیا پھر ہر جگہ ڈرا دھمکا کر حکومتیں قائم کی گئیں۔ جو نہیں جھکتے ہیں، انہیں ای ڈی اور سی بی آئی کا استعمال کرکے ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔‘‘کھڑگے کا کہنا تھا کہ راہل گاندھی کی لوک سبھا رکنیت کو اس لئے ختم کیا گیا ہے کیونکہ حکومت اڈانی کے ایشو پر ان کے اٹھائے گئے سوالات سے خوفزدہ تھی ۔ انہیں’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘کے بعد سے ایک چیلنجر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تمام پارٹیاں جے پی سی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہی ہیں، لیکن حکومت جے پی سی کی تشکیل سے ڈر رہی ہے۔ جے پی سی بنی تو سب کچھ سامنے آجائے گا ۔
کانگریس کا یہ ماننا ہے حکومت نے لوک سبھا کے اسپیکر سے بات کرکے راہل گاندھی کو نااہل قرار دیا تاکہ وہ ایوان میں اڈانی کے بارے میں بات نہ کرسکیں۔ یہ سب رہل گاندھی جی کو ڈرانے کے لیے کیا گیا ہے، لیکن راہل گاندھی نہیں ڈریں گے، اپوزیشن پارٹیاں نہیں جھکیں گی۔ ڈی ایم کے کے ڈی آر بالو کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کو نااہل قرار دینا جمہوریت کے لیے ایک سیاہ دن ہے۔ اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش، ڈی ایم کے کے ڈی آر بالو، عام آدمی پارٹی، ترنمول کانگریس اور کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے کے چیمبر میں منعقد میٹنگ میں شرکت کی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا ۔
اِدھر راہل گاندھی اپنی رکنیت کے معاملے پر پارٹی کی سرگرمیوں سے خود کو دوررکھنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر حال میں اپنی توجہ اڈانی معاملے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ 25 مارچ کو راہل گاندھی کی پریس کانفرنس میں بھی یہ بات واضح ہوگئی تھی۔ پارٹی کی قیادت کو بھی اس معاملے پر جارحانہ رہنے کو کہا گیا ہے۔
جہاں تک راہل گاندھی کی کانگریس میں قیادت کی بات ہے تو اس سلسلے میں بیشترسیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے راہل گاندھی کا سیاسی قد چھوٹا نہیں ہو نے والا ہے۔کانگریس کو قریب سے جاننے والے سینئر صحافی ونود شرما کہتے ہیں’’ راہل گاندھی نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ پی ایم مودی کا اڈانی سے کیا تعلق ہے؟ راہل گاندھی بھلے ہی کانگریس کے صدر نہ ہوں، لیکن’’ بھارت جوڑو یاترا ‘‘ سے لے کر لوک سبھا تک راہل پارٹی کا بڑا چہرہ ہیں۔ زیادہ تر کانگریس لیڈر اس بات سے متفق ہیں کہ پارٹی کو متحد رکھنے کے لیے گاندھی خاندان ضروری ہے۔ جب گاندھی چہرہ ہیں تو پارٹی میں قیادت کو لے کر کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ ونود شرما یہ بھی مانتے ہیں کہ راہل گاندھی کو عدالت سے راحت نہیں ملتی ہے تو پرینکا گاندھی وائناڈ سے ضمنی انتخاب لڑ سکتی ہیں۔ وائناڈ میں کانگریس جس کو بھی میدان میں اتارے گی، اس کی جیت یقینی ہے۔
اِدھرراہل گاندھی کی لوک سبھا کی رکنیت کے خاتمے کے حوالے سے جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، ان میں ایک اہم بات یہ ہے کہ حال ہی میں تیسرے محاذ کی بات کرنے والی سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں کانگریس کے ساتھ کھڑی نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں قیاس آرائیاں ہونے لگی ہیں کہ آیا 2024 کے انتخابات سے قبل راہل گاندھی کی رکنیت کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں پوری طرح سے متحد اور مضبوط ہو جائیں گی۔اور اگر ایسا ہوا تو یہ طے ہے کہ بی جے پی کے لئے آگے کا راستہ آسان نہیں رہ جا ئے گا۔
**************