Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15th March
تہران ،15مارچ :ایران نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ رہبر اعلی آیت اللہ خامہ ای نے22 ہزار سے زائد افراد کو معافی دے دی ہے جنہیں حال ہی میں ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم بڑے پیمانے پر رہا ئی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اڑوای نیحکومت کی جانب سیمظاہرین کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے دائرہ کار کے بارے میں پہلی بار یہ معلومات دی ہیں۔ستمبر میں 22 سالہ ماہسا امینی کی پولیس میں حراست کے بعد پورے ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔اس اعلان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی قیادت اتنے بڑے پیمانے پر بد امنی کے بعد اب صورت حال کو تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کررہی۔ یہ صورت حال 1979میں اسلامی انقلاب کے بعد ملک کی انتظامیہ کو درپیش سنگین ترین چیلنجوں میں سے ایک تھی۔ اس انقلاب کے بعد بھی دسیوں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ملک میں اس وقت بھی عوامی سطح پر غصہ اور ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ ملک کی کرنسی کی مخدوش حالت، اقتصادی مسائل اورعالمی طاقتوں کے ساتھ 2015کے جوہری معاہدے کے خاتمے کے بعد دنیا کے ساتھ تہران کے تعلقات غیر یقینی پن کا شکار ہیں۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے اڑوای کے حوالے سے ان اعداوشمار کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے نے پہلے یہ خبر دی تھی کہ رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اتنی بڑی تعداد میں گرفتار مظاہرین کو رمضان کے مہینے کا آ غاز سے قبل معافی دے سکتے ہیں۔ رمضان کا آغاز آئندہ ہفتے ہو رہا ہے۔ایران میں ان مظاہروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی پر نظر رکھنے والے انسانی حقوق کے علمبرداروں کے ایک گروپ کے مطابق ان مظاہروں کے دوران 19,700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔حکام کی جانب سے ان مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی کوششوں میں کم از کم 530 افراد ہلاک ہوئے۔ایران نے ان مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ایران میں انسانی حقوق کے لیے امریکہ میں قائم مرکز کی ڈپٹی ڈائریکٹرجیسمن رمزے کا کہا ہے کہ گزشتہ مہینوں کے دوران گرفتار ہونے اور جیل میں ڈالے جانے والے افراد کی تعداد کے بارے میں شفاف انداز میں معلومات سامنے نہیں لائی گئیں اور یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں تصدیق کرنا ممکن نہیں کہ کتنے افراد کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ریاستی تحویل میں مہسا امینی کی ہلاکت کے پانچ ماہ سے زائد عرصے کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرین کی ہلاکتوں اور دسیوں ہزاروں افراد کی گرفتاری کے بعد کسی بھی سرکاری عہدے دار کو ذمے دار نہیں ٹھہرایا گیا‘‘۔عدلیہ کی جانب سے یہ اعلان آئندہ ہفتے ایرانی نئے سال نوروز کی تقریبات سے پہلے کیا گیا ہے۔ایران میں منگل کے روز کچھ افراد نیآگ کے تہوار نامی چار ہزار پرانی روایت کی یاد تازہ کی جس کا تعلق زرتشت مذہب سے ہے۔ سخت گیر مؤقف رکھنے والے ایسی تقریبات کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اور اسے کفر سے تعبیر کرتے ہیں۔ان دونوں تقریبات کے موقع پر حکومت مخالف مظاہروں کی کال دی جاتی رہی ہے۔حالیہ ہفتوں میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں کمی آئی ہے لیکن ایران کے دارالحکومت تہران کے بعض حصوں سے ابھی بھی نعروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

