تعلیم ہی ترقی کا زینہ ہے، اس کے بعد ترقی ناممکن ہے: ڈاکٹر سعد

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 9th March

پٹنہ(نامہ نگار):جامعہ محمدیہ نیوعظیم آباد کالونی کے طلبا کی انجمن اصلاح اللسان کا اختتامی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر طلبا نےاردو، ہندی، انگریزی اور عربی میں تقریریں کیں۔ امتحان سالانہ میں نمایاں کارکردگی کرنے والوں کوں کتابیں، قلم اور نقد انعامات سے نوازا گیا۔ جو طلبا پوزیشن نہیں لاسکے انہیں تشجیعی انعامات دیے گئے۔پروگرام کا آغاز محمد شاہد ،حافظ شکراللہ کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اور نعت ومنقبت محمد اسدالرحمٰن ، امجد کریم، محمد انس دیگر طلبا نے پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت جامعہ کے صدرالمدرسین اور بزرگ عالم دین مولانا عبدالجبار قاسمی اور نظامت جامعہ کے طالب علم محمد نازش نے کی۔اس موقع پرمولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی کے امتحان کنٹرولر ڈاکٹرسعد بن حامدنےطلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑی خوشی اور مسرت کی بات ہے کہ آپ لوگ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کو حاصل کررہے ہیں ۔ آپ لوگوں کی خوش نصیب ہیں کہ یہاں دونوں علوم کے اساتذہ موجود ہیں اور آپ لوگ اس سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور مقابلہ کا دور ہے، اس میں محنت کے بغیر ایک قدم ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں، اس کے لیے بہت محنت کی ضرورت ہے۔ جس قوم نے بھی تعلیم کو اپنا ہتھیار بنایا اور بلندیوں پر پہنچ گئی۔تعلیم کے بغیر ترقی کا تصور بھی ناممکن ہے۔آپ لوگ محنت کریں، کامیابی قدم چومے گی۔
جامعہ کے بانی ومہتمم اور جامع مسجد پیر بہوڑ کے امام وخطیب مولانا محمدثناءاللہ ندوی ازہری قاسمی نےطلبا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدارس اسلامیہ فیکٹریاں ہیں، طلباخام مواد ہیںاور اساتذہ کرام معمار ہیں۔ آپ لوگ اللہ تعالیٰ کی جانب سےمنتخب ہوکر بھیجے گئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ دین کا علم حاصل کررہے ہیں۔ اللہ کی ذات عالی ہے، اسی طرح اللہ کا کلام بھی عالی ہے۔اللہ کا کلام جس کی زبان پر جاری ہوجائے اور جس کے سینے میں محفوظ ہوجائے تو یقینی طور سے وہ شخص بھی عالی ہوجاتا ہے۔حافظ خدا کی صفت ہے، حافظ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو تمام حرکات وسکنات کے ساتھ ان کے قواعد وضوابط کے ساتھ آپ کے سینے میں محفوظ ہوجائے تب آپ حقیقی طور پر حافظ قرآن کہلانے کے مستحق ہوںگے۔آپ قرآن کی قدر کریں گے تو آپ کا مقام بھی بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سب سے بالاوبرتر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح اللہ کا کلام بھی سب سے عالی اور سب سے برتر ہے،جب آپ کا تعلق قرآن مقدس سے ہوگا تو آپ کا مرتبہ بھی بلند ہوگااور آپ سے سب ممتاز ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔آپ اس حدیث سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ آپ قرآن سیکھ رہے ہیں، اس لئے آپ سے سب سے بہتر ہے اور وہ اساتذہ جو آپ کو قرآن سکھا رہے ہیں وہ بھی سب سے بہتر اور قابل احترام ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج ہم لوگ قرآن کریم سے دور ہوتے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے ہم لوگ پریشانی دوچار ہیں، اگر ہم قرآن سے لو لگائیں گےاور اس کے مطابق زندگی گزاریں گے تو یقیناً ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ محنت نہیں کریں گے اور مشقتوں کو برداشت نہیں کریں گے ،کامیاب نہیں ہوںگے۔
پروگرام میں جامعہ کے ناظم مطبخ مولانا فخرالدین قاسمی، مولانا نعمت اللہ نعمانی، قاری ضمیرالدین عرفانی،حافظ صبغت اللہ،مولانا شمیم اخترندوی کے علاوہ بڑی تعداد میں طلبا اور معززین موجود تھے۔