Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th March
نئی دہلی ،14مارچ: پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی ملتوی ہوگئی اور کانگریس نے راہل گاندھی کے کیمبرج یونیورسٹی میں بیان کو واپس لینے کے مطالبے کومسترد کیا ۔ جب پارلیمنٹ کی کارروائی شروع ہوئی تو دونوں ایوانوں میں شروشرابہ شروع ہوگیا اور کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا ۔ وفاقی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ پارلیمنٹ کا رروائی اس وقت تک نہیں چل سکتی ہے جب تک ان کا ایک ممبر ہندستان کے جمہوریت کے بارے میں معافی مانگے ۔ راہل گاندھی نے اپنے لیکچر کے دوران کیا کہ جمہوریت پر بی جے پی نے حملہ کیا اور ا ن کے بیان کے بعد بی جے پی نے کہا کہ کانگریس رہنما ہندستان کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور انہوں نے راہل گاندھی سے اپنے بیان پر معافی مانگنے کو کہا لیکن کانگریس نے کہا کہ جو جمہوریت کو تباہ کررہے ہیں وہ اسی پاسداری کی بات کررہے ہیں۔آج ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے وزیراعظم کے دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں پارلیمنٹ میں حکمران پارٹی نے اپنی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا اس میں نتن گڈکری ،پیوش گوئل ،کر ن رجیجو ،انوراگ ٹھاکر اور پرہلاد جوشی نے شرکت کی ۔ اس موقع پر پیوش گوئل نے کہا کہ وہ تمام جماعتوں سے درخواست کررہے کہ وہ راہل گاندھی کے بیان کی مذمت کریں۔ اس موقع پر وزاطلات انورگ ٹھاکر نے 1984کے دنگوں کے بارے میں ذکر کے او رکہا کہ سونیا گاندھی اور اندرگاندھی نے ان لوگوںکو پناہ دی جو اس کیلئے ذمہ دار ہے۔ کانگریس کے لیڈر شکتی سنگھ نے ایوان کے لیڈر پیوش گوئل کے خلاف ایک قرارداد پیش کی اور کہا کہ وہ دانستہ طور پر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیںاورراہل گاندھی کے خلاف نازیب الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ کانگریس کے ڈپٹی لیڈر منی کام ٹیگور نے کہا کہ راہل گاندھی معافی نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کوئی غلط بات نہیں کی اس نے وہی بات کہی جو عوام کہہ رہی ہے یہاں لوگوںکے بات کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بیرونی ملکوں میں رہنے والے ہندستانیوں کے کنویشن میں جو کہا کہ اس کے لئے وزیراعظم کو معافی مانگی چاہئے۔

