راہل گاندھی کے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ملک ارجن کھرگے

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15th March

نئی دہلی ،15مارچ :کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے نے بدھ کے روز کہا کہ پارٹی لیڈر راہل گاندھی کے برطانیہ میں اپنے بیان پر معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور ایسے مطالبات کرنے والوں کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرون ملک دیے گئے بیانات کی سزا ملنی چاہیے جس سے ملک کے لوگوں کی تذلیل ہوئی ہو۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کئی سینئر مرکزی وزراء راہل سے برطانیہ میں ہندوستانی جمہوریت کے بارے میں ان کے بیان پر معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔کھرگے نے کہا کہ میں ان لوگوں سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جو معافی مانگ رہے ہیں (راہل گاندھی سے) کہ جب مودی جی نے پانچ چھ ممالک میں جاکر ہمارے ملک کے لوگوں کی تذلیل کی اور ہمیں بتایا کہ ہندوستان میں جنم لینا گناہ ہے۔کانگریس صدر نے یہاں نامہ نگاروں سے کہایہاں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے، اظہار رائے کی آزادی کمزور ہو رہی ہے۔ ٹی وی چینلز پر پریشر بنایا جا رہا ہے اور سچ بولنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ یہ جمہوریت کے خاتمے کا عمل نہیں تو اور کیا ہے؟راہل گاندھی کے لندن بیان کو لے کر لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دو دن سے ہنگامہ جاری ہے۔ بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ پیر کو شروع ہوا لیکن اب تک پارلیمنٹ میں کوئی قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا ہے۔ برطانیہ کے مشہور تعلیمی ادارے کیمبرج یونیورسٹی میں دیے گئے ایک لیکچر میں راہل گاندھی نے الزام لگایا کہہندوستان میں جمہوریت پر حملہ ہو رہا ہے۔