Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th March
ماسکو،27مارچ: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اعلان کیا ہے کہ روس حکمتِ عملی کے طور پر پڑوسی اور اتحادی ملک بیلاروس میں جوہری ہتھیار نصب کرے گا۔روس کے صدر متعدد بار دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ میں جوہری استعمال کر سکتے ہیں جس سے سرد جنگ کے دوران پیدا ہونے والے خدشات ایک بار پھر لاحق ہو رہے ہیں۔دوسری طرف یوکرین کے صدر ولودمیر زیلنسکی کے ایک اعلیٰ سلامتی مشیر کا کہنا ہے کہ روس کے حکمتِ عملی کے تحت بیلاروس میں جوہری ہتھیاروں کی تنصیب اْس ملک کو غیر مستحکم کر دے گی جو کہ ماسکو کے ہاتھوں یرغمال ہے۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق یوکرین کی نیشنل سیکیورٹی اور ڈیفنس کونسل کے سربراہ اولکسی ڈینیلونے اس فیصلے کو بیلاروس کے اندرونی عدم استحکام کی طرف ایک اور قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے روس اور پوٹن کی بیلاروس کے معاشرے میں منفی تاثر پھیلے گا۔ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ماسکو نے بیلاروس کو جوہری طور پر یرغمال بنا رکھا ہے۔خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق بیلا روس میں جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کا اعلان کرتے ہوئے روس کے صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ اگر یوکرین کو برطانیہ کی تجویز کے بعد مغربی ممالک سے گولہ بارود موصول ہوا تو روس بھی یورینیم کے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔پوٹن کے بقول اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ امریکہ دہائیوں سے یہ کر رہا ہے۔اس نے اپنے اتحادیوں کے علاقوں میں حکمتِ عملی کے طور پر جوہری ہتھیار نصب کر رکھے ہیں۔یوکرینی فوجی جس کے قتل کی ویڈیو کے بعد روس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیلاروس کے رہنما الیگزینڈر لوکا شینکو سے بات کی ہے جنہوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔اس سوال پر کہ اگر مغربی ممالک برطانیہ کی تجویز پر یوکرین کو یورینیئم شیلز فراہم کریتے ہیں تو ماسکو کا ردِ عمل کیا ہو گا؟ پوٹن کا کہنا تھا کہ روس کے پاس ہتھیاروں کی بڑی مقدار موجود ہے۔روسی ٹی وی کو انٹرویو میں پوٹن کا کہنا تھا کہ روس یقینی طور پر جواب دے گا۔ کسی مبالغہ آرائی کے بغیر ان کے پاس ایسے ہزاروں شیلز موجود ہیں جو انہوں نے استعمال نہیں کیے۔جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی مہم ’آئی سی اے این‘ نے خبردار کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔آئی سی اے این نے گزشتہ ماہ بھی کہا تھا کہ روس کی یوکرین میں جتنی دیر تک کارروائی جاری رہے گی جوہری حملوں کا خطرہ موجود رہے گا۔صدر پوٹن نے گزشتہ ماہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ دنیا کے دو اہم ترین جوہری طاقتوں روس اور امریکہ کے درمیان ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدے سے باہر ہو رہے ہیں۔