شاہنواز حسین کو ہائی کورٹ سے راحت، ایف آئی آر درج کرنے کا حکم منسوخ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 6th March

نئی دہلی، 6 مارچ: دہلی ہائی کورٹ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما شاہنواز حسین اور ان کے بھائی شہباز حسین کے خلاف مبینہ عصمت دری کیس میں ایف آئی آر درج کرنے کے سیشن کورٹ کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔جسٹس امت مہاجن کی بنچ نے پیر کو سیشن کورٹ کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے پر نئے سرے سے غور کرے اور شاہنواز حسین اور ان کے بھائی کو اپنا مقدمہ پیش کرنے کی اجازت دے۔
اس معاملے میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا۔ جس کے بعد متاثرہ نے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی۔
سیشن کورٹ کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ سیشن کورٹ نے شاہنواز حسین اور ان کے بھائی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کی بات نہیں سنی۔
یہ الزام لگانے والی خاتون ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) چلاتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شہباز حسین نے خود کو بی جے پی لیڈر کا بھائی بتایا جس سے وہ متاثر ہوئی۔ دونوں کے درمیان قربت بڑھتی گئی۔ جسکا فائدہ اٹھاکرشہباز نے اسے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ احتجاج کرنے پر شادی کا وعدہ کیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ شہباز شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں۔
اس کے بعد وہ مدد کے لئے شاہنواز حسین کے پاس پہنچی۔ شاہنواز حسین نے اسے تسلی دی اور کہا کہ اس پر واویلا نہ مچاو یہ دونوں کے لئے نقصان دہ ہوگا۔
خاتون کی شکایت کے مطابق جنوری 2017 میں شہباز نے مولوی کی موجودگی میں اس سے شادی کی۔ بعد میں پتہ چلا کہ مولوی نے جعلی نکاح نامہ دیا تھا۔ اس کے بعد خاتون نے شکایت درج کرائی، لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔