علاج کے دوران مریض کی موت کے بعد چھ لاکھ روپئے میں رکا ہنگامہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 29th March

بیگوسرائے، 29 مارچ : بیگوسرائے ضلع ہیڈکوارٹر کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ایک مریض کی موت کے بعد سات گھنٹے سے زیادہ ہنگامہ جاری رہا۔ ڈاکٹر پر غلط علاج کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مشتعل رشتہ داروں نے ہنگامہ کیا اور نگر نگم چوک کو جام کر کے ا?مدورفت متاثر کر دیا۔
اس دوران پولیس انتظامیہ کی طرف سے کافی سمجھانے کے باوجود لوگ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ لوگ 50 لاکھ معاوضہ اور ڈاکٹر کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس دوران کچھ لوگوں نے اینٹ اور پتھر بھی برسائے جس میں کچھ پولیس اہلکاروں کو چوٹیں ا?ئیں۔ حالانکہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ بعدازاں مٹیہانی بلاک کے پرمکھ وشوناتھ رائے کی کوششوں سے سمجھوتہ ہو گیا اور چھ لاکھ روپے معاوضہ ملنے کے بعد لواحقین لاش لے کر ا?خری رسومات کے لیے گھر چلے گئے۔
واقعہ نگر تھانہ علاقے میں صدر اسپتال کے ساتھ واقع ایڈوانسڈ نیورو اینڈ میٹرنٹی اسپتال ہے۔ واقعہ کے تعلق سے اہل خانہ نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیورپھولوادیا تھانہ علاقہ کے بختراستھان رہائشی لال بابو رام کو ہاتھ پیر میں درد ہونے کی شکایت پر منگل کی صبح نیورولوجسٹ ڈاکٹر شمبھو کمار کے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
یہاں داخل کرانے کے بعد پانچ گھنٹے تک ایک بار بھی ڈاکٹر دیکھنے نہیں پہنچے۔ کمپاو?نڈر کے ذریعہ ہی مریض کو دوا دی گئی۔ منگل کی دیر رات لال بابو کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی شکایت کی گئی تو کمپاو?نڈر نے کہا کہ ڈاکٹر ا?ن لائن ہی دیکھتے ہیں۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ صحیح طریقے سے علاج نہیں کئے جانے کی وجہ سے صبح ہوتے ہوتے لال بابو کی موت ہوگئی۔ لیکن ڈاکٹر کے اسٹاف نے اسے چھپائے رکھا۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ 20 گھنٹے کے دوران صرف ایک بار مریض کو دیکھنے ا?ئیڈاکٹر نے جانچ میں پوٹاشیم کی کمی بتائی۔ ڈاکٹر نے ٹھیک سے علاج نہیں کیا اور کمپاو?نڈر کے بھروسے پر اوور ڈوز دوائی دی گئی، جس سے اس کی موت ہوگئی۔ موت کی اطلاع ملتے ہی مٹہانی تھانہ علاقہ میں متوفی کے سسرال والوں سمیت گاو?ں سے بڑی تعداد میں لوگ اسپتال پہنچے اور ہنگامہ ا?رائی کے ساتھ میونسپل کارپوریشن چوک جام کر کے ا?مدورفت متاثر کر دیا تھا۔