ماہِ رمضان سے قرآن کا اٹوٹ رشتہ

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 29th March

مفتی رفیق احمد کولاری قادری ہدوی

قرآن کریم پوری انسانیت کے لیے دستور حیات اور لائحہ زندگی ہے۔ اس کتاب ہدایت میں کائنات ہست وبود کے سارے راز ورموز پنہاں ہیں۔ قرآن محض ایک قانونی و تشریعی کتاب نہیں بلکہ پروردگار عالم کا کلام پاک ہے۔ جیسے ہم فرامین واحکام الہی کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کو اتارنے کے لیے پہلے شخصیت اور مہینے کا انتخاب ہوا۔ اللہ کے مخلوقات میں بظاہر قوت وطاقت میں پہاڑ وکوہسار یکتا ومنفرد ہیں۔ لہذا رب نے اپنا کلام پہاڑوں اور کوہساروں پر اتارنا چاہا لیکن بصد بار آداب واحترام کے ساتھ پہاڑوں نے کلام اللہ کو اپنے سینے میں سمونے سے اپنی ناتوانی ولاغری کا اعتراف کیا۔ جس کو قرآن نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا۔”بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پرامانت پیش فرمائی تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اورانسان نے اس امانت کو اٹھالیا” (احزاب:72) انسانوں میں انسان کامل کو اس عظیم ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ جیسے کہ خود قرآن کہتا ہے ”اور بیشک یہ قرآن رب العالمین کا اُتارا ہوا ہے اُسے روح الا مین لے کر اُتراتمہارے دل پر کہ تم ڈر سناؤ۔روشن عربی زبان میں اور بیشک اس کا چرچا اگلی کتابوں میں ہے (شعراء:192-195)
ان مذکورہ بالا آیات کریمہ سے یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح عیاں وبیاں ہے کہ قرآن کریم کے لیے قلب مصطفی ﷺ کو چنا گیا اس سے اندازہ لگائے کہ دل مصطفی ﷺ کی طاقت وقوت کیا ہوگی۔ جس کلام کو آسمان وزمین اور پہاڑ اٹھانے سے عاجز رہے اس کلام الہی وصفت ربانی کو قلب مصطفی جان رحمت ﷺ نے اپنے اندر پیوست کرلیا۔ قرآن کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ قرآن پاک اللہ تعالٰی کا کلام ہے اور اس کی صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے۔ اللہ تعالٰی نے اس کلام کو عربی الفاظ کے لبادے میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام پر نازل فرمایا اور انہیں ان الفاظ پر امین بنایا تاکہ وہ اس کے حقائق میں تَصَرُّف نہ کریں،اس کے بعد حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے ان الفاظ کوحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب ِاَطہر پر نازل کیا۔(روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۳۹۱، ۶ / ۶۰۳)
یہ زمانے کی ستم ظریفی کہ اسی قرآن کو لوگ اموات کے لیے مختص کر بیٹھے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کتاب قرآن خوانی اور ایصال ثواب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔ کتنے ایسے گھر ہیں جہاں قرآن کو بڑے قیمتی اور نرم ملائم ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر زرق برق صندوقچی میں محفوظ رکھاجاتا ہے۔ اس کتاب ہدایت کو اس وقت کھولا جاتا ہے جب گھر میں کسی کی موت ہوجاتی۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ جب یہ کتاب ہدایت اس میت کے گھر کھولی جاتی ہے تب بھی گھر والوں کو پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس وقت کسی مدرسے کے طالبان علوم نبویہ کو بلایا جاتا ہے وہ اس مردے کے لیے قرآن پڑھتے ہیں اور ایصال ثواب کرتے ہیں۔
میں کہہ رہا تھا کہ اس مقدس وبابرکت کتاب کے لیے اللہ تعالی نے قلب مصطفی ﷺ کو چنا۔ اسی طرح اس کتاب ہدایت کو اتارنے کے لیے جس ماہ کا انتخاب ہوا وہ رمضان المبارک کا پرانوار مہینہ ہے۔ جیسے کہ خود قرآن کہتاہے ”رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں پر مشتمل ہے”۔(بقرہ:185) اس آیت میں ماہِ رمضان کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے اوراس کی دو اہم ترین فضیلتیں ہیں، پہلی یہ کہ اس مہینے میں قرآن اترا اور دوسری یہ کہ روزوں کے لئے اس مہینے کا انتخاب ہوا
قرآن کے نزول کے سلسلے میں علماء دو قول بیان کرتے ہیں ایک یہ کہ … قرآن کریم کے نازل ہونے کی ابتداء رمضان میں ہوئی۔ (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸۱، ۲ / ۲۵۲-۳۵۲)
دوسرا قول یہ کہ مکمل قرآن کریم رمضان المبارک کی شب ِقدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا اور بیت العزت میں رہا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸۱،۱ / ۱۲۱)
رمضان کی جن گھڑیوں میں قرآن کا نزول ہوا ان گھڑیوں کے سلسلے میں قرآن کہتا ہے ”حٰمٓ۔ اس روشن کتاب کی قسم۔بیشک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا،بیشک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔” (دخان:1-3) برکت والی رات کو مزید عظمتوں اور رفعتوں سے سجاتے ہوئے رب قدیر کہتا ہے”بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدرشب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک”(قدر:1-5)
آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس مقدس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ دل اور پر انوار وبرکات والے مہینے میں نازل کیا تاکہ اس کی عظمت و بلندی ہر دل میں برقرار رہے۔ اس کتاب کو قیامت تک کی انسانیت وبشریت کے لیے دستور حیات َاور قانون فطرت بنایا۔ اس سے وابستگی کو دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی قراردیا۔ اس سے دوری وگریزی کو نسل انسانی کے لیے خسارے کا سبب قرار دیا۔ آج جس خسارے میں ہم مبتلا ہیں اس کی اولین وجہ قرآن سے ہماری دوری ہے۔ جیسے کہ علامہ اقبال فرماتے ہیں
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
آج تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
خود قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہتا ہے ”اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعے سے کچھ قوموں کو بامِ عروج تک پہنچائے گا اور اسی کو ترک کر نے کے باعث کچھ کو ذلیل و خوار کر دے گا‘‘.(انعام:114) اسی مضمون کو علامہ اقبال نے دوسری جگہ کچھ یوں بیان کیا۔
خوار از مہجوری قرآں شدی
شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی!
کہ اے اُمت مسلمہ! توقرآن کو ترک کرنے کے باعث ذلیل و خوار ہوئی ہے‘ لیکن توگردشِ دوراں کا شکوہ کر رہی ہے اور اپنے زوال کا سبب ’’فلک کج رفتار‘‘ کو قرار دے رہی ہے‘ حالانکہ فلک تو کسی قوم کی قسمت نہیں بدلتا. اپنی ذلت و رسوائی کے ذمہ دار تم خودہو.
اے چو شبنم بر زمیں افتندہ
در بغل داری کتابِ زندہ
اے وہ اُمت جو شبنم کی طرح زمین پر پامال پڑی ہوئی ہے اور لوگ تجھے اپنے پائوں تلے روند رہے ہیں‘ اگراب بھی تم بلندی چاہتے ہو تو جان لو کہ تمہاری بغل میں ایک زندہ کتاب قرآن مجیدموجود ہے.
قرآن کریم سے امت مسلمہ کا تعلق صرف تراویح تک محدود نہ ہو بلکہ قرآن فہمی کے ساتھ روزمرہ زندگی میں قرآن کو لانے کی کوشش کریں اور اپنی زندگی کو قرآن کے سانچے میں ڈھالنے کی جدوجہد کرتے رہے کیونکہ آقا ﷺ کی زندگی مبارک چلتی پھرتی کتاب اللہ تھی جیسے کہ حدیث پاک میں ہے حضرت سعد بن ہشام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں:میں نے حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا:اے اُمُّ المومنین! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، مجھے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَخلاق کے بارے میں بتائیے۔حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟میں نے عرض کی: کیوں نہیں! تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خُلْق قرآن ہی تو ہے۔(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب جامع صلاۃ اللیل… الخ، ص۴۷۳، الحدیث: ۹۳۱(۶۴۷))
جب ماہِ رمضان، قرآن اور آقائے دوجہاں ﷺ کی ذات ستودہ صفات باہم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم مسلمان بھی ان تینوں سے اپنے آپ کو جوڑ کر سرخروئی سے ہمکنار ہو۔ اسی میں ہماری فروزمندی اور سعادت چھپی ہوئی ہے۔ قرآن سے دوری، ماہِ رمضان کی ناقدری اور ذات مصطفی ﷺ سے گریزی ہی ہمارے شامت اور نحوست کی روشن دلیل ہے۔ لہذا جس طرح یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی اپنے تعلق کو استوار کرلیں اور ماہِ رمضان المبارک کے تمام انوار، برکات اور انعامات سے مالامال ہوجائیں اللہ تعالٰی ہم سب کو ماہِ مبارک کے قدردانوں میں شمار فرمائے آمین
8618288480