Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th March
اسلام آباد،27مارچ:ماہ رمضان اور عیدالفطر کی تاریخوں کے بارے میں وقتاً فوقتاً تنازع کھڑے ہوتے رہیں ہیں اور کبھی رویت ہلال کمیٹیاں آچانک چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہیں۔ حالانکہ چاند دیکھنے کا عمل مغرب کے فوراً بعد چاند کو تلاش کیا جاتا ہے لیکن کئی بار علماء دین کو گھنٹوں کسی بھی جگہ سے چاند دیکھنے کی شہادت نہیں ملتی ہے۔ پھر اچانک چاند دیکھنے کی شہادت ملتی ہے۔ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہوتا ہے اس باربھی پاکستان میں رمضان کا چاند رات 11.45نظر آنے کی شہادت دی گئی بہت سے لوگوں سے سحر کی تیاری تھی لیکن ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے یہ سمجھا کہ رمضان المبارک 24مارچ سے شروع ہوگا۔ چاند نکلنے کے فوراً ًبعد لوگ ترایح پڑھنے کیلئے مساجد کا رخ کرنے لگے۔ سورج ڈھلنے کے فوراً بعد چاند کی تلاش شروع ہوتی ہے اور کچھ ہی گھنٹوں میں فیصلہ لیا جاتا ہے لیکن اب کی بار رویت ہلال کمیٹ کو پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لگا ۔ چیف میٹرولوجسٹ ڈاکٹر سردار سرفراز سے اور ان سے جانا کہ آخر ہلال (پہلی تاریخ کا چاند) کے ظاہر ہونے کا وقت کیا ہوتا ہے اور یہ آسمان پر کتنی دیر تک نظر آتا ہے۔ڈاکٹر سرفراز کے مطابق زمین اور سورج یوں تو اپنے اپنے مدار کے گرد چکر لگا رہے ہوتے ہیں تاہم ہر ماہ کے آخر میں یہ ایک لائن میں آتے ہیں جس کو ’کنجیکشن‘ کہا جاتا ہے اور یہی وقت چاند کی پیدائش کا کہا جاتا ہے۔’اس ماہ رمضان کے چاند کی پیدائش منگل کی رات 10 بج کر 23 منٹ پر ہو چکی تھی۔ بدھ کے روز سورج غروب ہونے کے وقت اس چاند کی عمر 20 گھنٹے سے زائد تھی۔ بلوچستان کے علاقے جیوانی میں اس چاند کی عمر 21 گھنٹے کے قریب ہو چکی تھی جو چاند نظر آنے کا بہت واضح امکان کا اشارہ ہے۔‘ڈاکٹر سرفراز کے مطابق ہر ماہ میں پہلی کے چاند کا دورانیہ قدرے مختلف ہوتا ہے تاہم مارچ اپریل میں چاند تقریباً 40 منٹ تک دیکھا جا سکتا ہے۔’اگر بدھ کے روز ماہ رمصان کے چاند کی بات کریں تو غروب آفتاب کے بعد 40 منٹ سے زائد چاند آسمان پر موجود تھا۔ بلوچستان کے علاقے جیوانی میں سورج 7:59 پر غروب ہوا جس کے بعد 40 منٹ تک اس کو آسمان پر دیکھا جا سکتا تھا جو ملک بھر میں سب سے ذیادہ طویل دورانیہ تھا۔‘ڈاکٹر سرفراز کے مطابق چاند کی پیدائش اور اس کی عمر کے علاوہ تیسری چیز چاند کا زاویہ (اینگل) ہے۔ ’بدھ کی رات ماہ رمضان کے چاند کا اینگل تقریبا آٹھ ڈگری تھا جس کو انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن تھا۔‘انھوں نے یہ بھی بتایا کے گزشتہ روز کئی علاقوں میں مطلع ابر آلود تھا اور اس کے بعد بہاولپور اور مردان سمیت دیگر علاقوں سے جو شہادتیں موصول ہوئیں ان کی چھان بین کے بعد مکمل کارروائی کے بعد ہی کمیٹی کا اعلان سامنے آیا۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کا ڈیٹا پروسیسنگ سینٹر ہر سال چاند کی رویت کا کیلنڈر ترتیب دیتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ رویت ہلال کمیٹی میں محکمہ موسمیات کا ایک نمائندہ شامل ہوتا ہے۔حکام کے مطابق ’رویت ہلال کمیٹی چاند دیکھنے کے لیے محکمہ موسمیات کے آلات استعمال کرتی ہے اور محکمہ کی پیشگوئی کے مطابق اور چاند کی حرکت کو مدِنظر رکھ کر دوربین ان زاویوں پر لگائی جاتی ہے جہاں سے مخصوص عرض بلد یا افق پر چاند با آسانی نظر آ سکے۔‘سائنس کے مطابق نئے چاند کی پیدائش کے 16 سے 18 گھنٹے کے بعد آپ اس کو باآسانی دیکھ سکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق ’سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے کہ چاند کی پورے سال کی گردش کا دورانیہ پہلے ہی پتا ہوتا ہے اور یہ بھی کہ کس مخصوص علاقے میں کتنی دیر کے لیے اور کس حد تک چاند دیکھا جا سکتا ہے۔‘محققین کے مطابق نشیبی عرض بلد والے علاقوں میں جیسا کے ساحلی علاقے جو کراچی سے پسنی گوادر تک ہیں وہاں چاند نظر آنے کے امکان زیادہ اور طویل مدت تک ہوتے ہیں جبکہ شمالی علاقہ جات میں بہت کم ہوتے ہیں۔