Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13th March
ارریہ( مشتاق احمد صدیقی ) بین الاقوامی شہرت یافتہ ادیب،افسانہ نگار اور شاعر پروفیسر غضنفر کی سوانح اور ان کی تصانیف پر گزشتہ کل ٹاؤن ہال ارریہ میں دو روزہ عالمی سطح کا سیمینار اور مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت بہار اردو اکادمی پٹنہ کے سابق سکریٹری مشتاق احمد نوری نے کی۔ ارریہ میں پہلی بار اس قسم کی تقریب کا انعقاد بزم صدف انٹرنیشنل اور پپلس کالج ارریہ کے زیر اہتمام مشترکہ طور پر کیا گیا۔ اس موقع پر آرگنائزنگ کمیٹی نے سیمینار اور مشاعرہ میں شرکت کرنے والے مہمانوں کو گلدستے دے کر خوش آمدید کہا چبکت مومنٹو دے کر ان کی عزت افزائی کی گئی۔ بزم صدف کے صدر پروفیسر صفدر امام قادری نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر غضنفر کی عمر ستر برس ہے، جس میں وہ پچاس سال سے ناول لکھ رہے ہیں جو کافی مقبولیت حاصل کر چکی ہیں ان کی لکھی ہوئی درجنوں کتابیں منظر عام ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پروفیسر غضنفر نے پوری دنیا میں اپنی الگ پہچان اور منفرد شناخت بنائی ہے۔ اس موقع پر معروف ادیب غضنفر نے بزم صدف انٹرنیشنل اور پیپولس کالج ارریہ کے ساتھ ساتھ باشندگان ارریہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے میرے نام سے اس سیمینار کا انعقاد کرکے مجھے جو عزت دی اور حوصلہ افزائی کی ہے اس کا میں شکر گزار ہوں یقیناً میری زندگی کے حسین اور یادگار لمحات میں آج کے ان لمحوں کا اضافہ ہوا ہے جو میرے لئے باعث فخر ہے۔ سیمینار کا تعارف پپولس کالج کے پرنسپل عنایت اللہ ندوی نے کرایا انہوں نے کہا کہ آج ارریہ کی سرزمین پر پہلی بار اتنے بڑے افسانہ نگار کی آمد سے دل باغ باغ ہے اور باشندگان ارریہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ اس موقع پر کئی کتابوں کا رسم اجراء بھی کیا گیا۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے دو درجن سے زائد ادیبوں، شاعروں اور شاعرات نے اپنا مقالہ اور کلام پیش کیا، جن میں دہلی، علی گڑھ، ممبئی، کلکتہ، پٹنہ، مونگیر، سیوان، گوپال گنج پورنیہ مونگیر کشن گنج اور ارریہ کے نامور ناول نگاروں نے شرکت کیں ان میں پروفیسر علی رفعت، جمشید قمر رانچی، ڈاکٹر ظفر کمالی سیوان، ظفر امام بیتیا، پروفیسر ابوبکر عباد دہلی، اقبال حسن مونگیر، طیب نعمانی کولکاتہ، صحافی عارف اقبال پٹنہ، عتیق انظر قطر، پروفیسر صغیر افراہیم، رضی احمد تنہا، رفیع حیدر انجم، عبدالغنی لبیب، پروفیسر رقیب احمد، مفتی انعام الباری، مولانا شاہد عادل وغیرہ کے نام قابلِ ذکر شامل تھے۔ واضح رہے کہ اسی روز شام کو پہلی بار ٹاؤن ہال میں عالمی سطح کا مشاعرہ بھی منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت بھاشہ سنگم کی معاون ایڈیٹر ڈاکٹر افشاں بانو نے بحسن وخوبی انجام دیا۔

