پاکستان کے تمام رہنمائوں نے توشہ خانہ کے تحائف کو کوڑیوں کے دام خریدا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14th March

بہتی گنگا میں سبھوں نے ہاتھ دھوئے

اسلام آباد،14مارچ ( اے یوایس) پاکستان کے تمام صدر وزرائے اعظم اورسینئر وزراء نے توشہ خانہ تحائف کو کوڑی دام خریدا اور اس جرم میں سارے رہنمائوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھویا شاید کوئی ہی رہنما ہے جس نے اس لوٹ میں حصہ نہیں لیا ۔ سابق صدرآصف علی زرادی نے 182تحائف سستے داموں میں خریدے جب کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے کچھ تحفوں کا ذکر بھی نہیں کیا اور بازار میں بیچ بھی ڈالے۔ اکثر یہ تحائف ان رہنمائوں کو 15سے 20فیصدی کی اصلی رقم دے کر ہی حاصل کی ۔ ان میں بلٹ پروف گاڑیاں ،گھڑیاں سجاوتی خنجر ،فائونڈ پن ،اور دوسرے قیمتی اشیاء بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ یہ صرف پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ہی نہیں تھے جنہوں نے سرکاری ریاستی رجسٹری سے تحائف کی خریداری کے قوانین سے فائدہ اٹھایا بلکہ شوکت عزیز سے لے کر شہباز شریف تک تقریباً ہر وزیر اعظم نے توشہ خانہ سے چیزیں خریدیں یا رکھ لیں۔اس فہرست میں عام مشتبہ افراد شامل ہیں، جیسے کہ سیاست دان اور بیوروکریٹس، لیکن چیزوں کی فہرست اور ان میں دلچسپی حیران کن ہے کہ شرٹس، رومال، ساڑھیاں، قمیضوں کے کپڑے، گھڑیاں، پھل، سجاوٹی خنجر اور کف لنکس وغیرہ تک حاصل کیے گئے۔مثال کے طور پر سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر اپنے دور میں کم از کم 182 تحائف وصول کیے اور ان تحائف کے بدلے کچھ ادائیگی کرنے کے بعد تقریباً تمام کو اپنے پاس رکھ لیا۔آصف زرداری نے ایک لیکسس اور ایک بی ایم ڈبلیو، جن کی قیمت 10 کروڑ 7 لاکھ روپے سے کچھ زیادہ تھی لیکن 26 جنوری 2009 کو ان گاڑیوں کو اپنے پاس رکھنے کے لیے ایک کروڑ 61 لاکھ 70 ہزار روپے ادا کیے۔یہ تحائف کسی سرکاری عہدے دار کے پاس رکھے گئے سب سے مہنگے تحائف میں سے ہیں۔عمران خان، جنہیں عدالتی کارروائی کا بھی سامنا ہے، نے اقتدار میں آنے کے چند ہفتوں بعد 24 ستمبر 2018 تک 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تحائف اپنے پاس رکھے، اور انہیں رکھنے کے لیے 2کروڑ ایک لاکھ روپے ادا کیے۔