Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 31ST March
واشنگٹن، 31 مارچ: اگلے سال ایک بار پھر امریکی صدارتی انتخابات میں قسمت ا?زمائی کا اعلان کرنے والے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مصیبتیں بڑھ گئی ہیں۔ پورن فلم اسٹار اسٹورمی ڈینیلس سے رشتوں پر ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ ہوا ہے۔ امریکی صدراتی عہدہ کے ہندوستانی نڑاد دو دعویدار نکی ہیلی اور وویک راما سوامی نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف یہ الزام 2016 کا ہے۔ سال 2016 میں اسٹورمی ڈینیلس نے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات کا انکشاف کیا تھا۔ الزام ہے کہ یہ معلوم ہونے پر ٹرمپ ٹیم کے وکیل مائیکل کوہن نے اسٹورمی کو خاموش رہنے کے لیے 130,000 ڈالر ادا کیے تھے۔
اسٹورمی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹرمپ نے انہیں نوادہ میں ایک مشہور گولف ٹورنامنٹ کے دوران اپنے ہوٹل کے کمرے میں مدعو کیا تھا۔ ٹرمپ نے اسٹورمی کو ٹی وی اسٹار بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ اسٹورمی نے ٹرمپ کے ساتھ رشتے قائم کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ حالانکہ ٹرمپ اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے اسٹورمی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جولائی 2007 میں جب اسٹورمی ڈینیلس ٹرمپ سے ملی تو ان کی عمر 27 سال تھی اور ٹرمپ کی عمر 60 سال تھی۔
یہ معاملہ فیڈرل الیکشن کمیشن اور نیویارک کے پراسیکیوٹر دونوں تک پہنچا لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اب اس معاملے میں تشکیل دی گئی گرینڈ جیوری نے تحقیقات کے بعد ٹرمپ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ ایسے پہلے سابق امریکی صدر بن گئے ہیں جنہیں فوجداری مقدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ حالانکہ ان الزامات کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ اگر اس کیس میں انہیں گرفتار یا سزا بھی ہو جاتی ہے تو وہ اس قسم کی کارروائی کا سامنا کرنے والے پہلے امریکی سابق صدر ہوں گے۔
اگست 2018 میں ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہین نے بھی صدارتی انتخابات کے دوران مالی بے ضابطگیوں کے الزام کو قبول کیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے اسٹورمی ڈینیلس کو رقم دینے میں مدد کے معاملے کو بھی قبول کر لیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے پلے بوائے کی ایک سابق ماڈل کو پیسے دینے کی بات بھی قبولی تھی تاکہ ٹرمپ کے صدارتی انتخابی مہم میں مدد لی جاسکے۔ کوہین نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ سب ٹرمپ کے کہنے پر کیا تھا۔
گزشتہ دنوں ٹرمپ نے اپنی گرفتاری کی پیشن گوئی کی تھی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے حریف انہیں روکنے کے لیے فرضی مقدمات کا سہارا لے رہے ہیں۔ دریں اثنا، اگلے سال کے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے دو ہندوستانی نڑاد دعویدار، نکی ہیلی اور وویک راما سوامی نے ٹرمپ کے خلاف کارروائی کو انتقامی سیاست قرار دیا ہے۔ نکی ہیلی نے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا ہے۔ دوسری طرف راماسوامی نے کہا ہے کہ اس سے ملک کے عدالتی نظام پر لوگوں کا اعتماد کم ہو گا۔