Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 27th March
نئی دہلی ،27مارچ : بینک قرض معاملے میں ایک عرضی پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ا?ج ایک اہم فیصلہ سنایا جس میں بینکوں کو زبردست پھٹکار لگائی گئی ہے۔ بینکوں کو عدالت نے پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ قرض لینے والوں کی بھی بات سنی جانی چاہیے اور یہ لازمی ہے۔ بغیر ان کی بات سنے کوئی بھی فیصلہ لینا مناسب نہیں۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے کہا کہ جب تک قرض لینے والے کی بات نہ سنی جائے، تب تک ان کے اکائونٹ کو ڈیفالٹ نہ قرار دیا جائے۔اپنا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ بغیر اکاو?نٹ ہولڈر کی بات سنے یا بغیر سماعت کے قرض لینے والوں کے اکائونٹ کو فراڈ کی کیٹگری میں ڈالنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ان کا اکائونٹ ’بلیک لسٹ‘ ہو جائے گا۔ اس لیے بینکوں کو ’ا?ڈی الٹرم پارٹیم‘ یعنی دھوکہ دہی پر ماسٹر گائیڈلائنس کو پڑھنا چاہیے اور قرض لینے والوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینا چاہیے۔سپریم کورٹ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’آڈی الٹرم پارٹیم‘ کی گائیڈلائنس کو آر بی آئی کے ذریعہ بینک اکائونٹس کو فراڈ یا ڈیفالٹر اکائونٹ کی کیٹگری پتہ کرنے کے لیے یہ ضرور پڑھا جائے۔ کیونکہ ڈیفالٹر قرار دینے کے لیے بینکوں کو ’بڑی وجہ‘ بتانی پڑے گی۔ قابل ذکر ہے کہ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ہیما کوہلی کی صدارت والی بنچ نے دسمبر 2020 میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے فیصلے پر آج سماعت کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جسٹس چندرچوڑ کی بنچ نے اس فیصلے کو بھی خارج کر دیا ہے جو اس کے برعکس تھا۔واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آڈی الٹرم پارٹیم کے اصول کے مطابق کسی بھی فریق کو سماعت کا موقع دینا چاہیے۔ معاملہ چاہے کتنا بھی چھوٹا کیوں نہ ہو، کسی پارٹی کو ڈیفالٹر قرار دینے سے پہلے اس کی بات سنی جائے۔ دراصل ’آڈی الٹرم پارٹیم‘ ایک طرح کا منصفانہ ضابطہ ہے۔ اس کے تحت کوئی بھی انسان یا قرض لینے والا بغیر سماعت کے ڈیفالٹر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔