Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13th March
لاہور،13مارچ:پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جس طرح پنجاب کی نگراں حکومت نے ان کی جماعت کی انتخابی ریلی پر پابندی عائد کی اور انھیں 80 کے قریب مقدمات میں الجھایا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت نہیں ہے۔بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’لاہور میں تمام جماعتیں سیاسی سرگرمیاں کر رہی ہیں لیکن نگراں حکومت نے صرف ہماری ریلی پر پابندی لگائی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ ہمیں الیکشن مہم چلانے کی اجازت ہے یا نہیں کیونکہ ایک طرف میرے خلاف 80 مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور میرے جماعت کے لوگوں پر بھی مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔‘پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے آٹھ اور 12 مارچ کو پی ٹی آئی کی ریلی پر پابندی عائد کرنے پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اب ہم پیر کو لاہور ہائی کورٹ سے ریلی کی اجازت لے رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کریں کہ کیا یہ الیکشن انتخابی مہم کے بغیر لڑا جائے گا۔‘ان کا کہنا تھا کہ اب صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں کم وقت رہ گیا ہے اور اس سلسلے میں وہ انتخابی جلسوں کے حوالے سے اپنا پورا لائحہ عمل جلد ہی دیں گے۔واضح رہے کہ پنجاب کی نگراں حکومت نے لاہور میں پی ٹی آئی کی 12 مارچ کو ہونے والی ریلی سے قبل شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی جس کے باعث اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔تاہم اتوار کے روز ضلعی انتظامیہ نے تحریک انصاف کو لاہور میں ریلی کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد عمران خان کی جماعت نے آج دوپہر لاہور میں اس ریلی کو منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب پیر کے روز اسلام آباد کی مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی آگے بڑھانے کی غرض سے طلب کر رکھا تھا جہاں پیش ہوتے ہوئے ان کے وکیل نے ایک اور مرتبہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں فرد جرم کی کارروائی 28 فروری کو ہونا تھی تاہم بار بار حاضری سے استثنی کی درخواستوں کے باعث یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ پا رہا۔اپنے خلاف مقدمات میں عدالت میں پیش ہونے کے سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے اپنے خلاف مقدمات میں عدالت میں پیش ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر میری جان کو خطرہ ہے اس لیے عدالت سے تحفظ مانگ رہے ہیں اور اگر وہ یہ سکیورٹی نہیں دی سکتی تو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میرے وکلا پیر کے روز اسلام آباد میں ہونے والی توشہ خانہ کی عدالتی سماعت میں پیش ہوں گے۔ وزارتِ داخلہ نے بڑے واضح طور پر کہا ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ میں عدالت سے یہی کہہ رہا ہوں کہ اگر جان خطرے میں ہے تو سکیورٹی دیں۔

