اتراکھنڈ میں باگھ کی دہشت، درجنوں گائوں میں کرفیو

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 APRIL

اسکول اور آنگن باڑی سنٹر بند، لوگوںمیں خوف وہراس کا ماحول

دہرا دون ،17اپریل : اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال ضلع انتظامیہ نے باگھ کی دہشت کو دیکھتے ہوئے رِکھنی کھال و دھوماکوٹ تحصیل کے درجنوں گاو?ں میں شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 17 اور 18 اپریل کو ان دونوں تحصیلوں کے اسکول اور آنگن باڑی سنٹر بند رہیں گے۔ رِکھنی کھال بلاک کے گرام پنچایت میلدھار کے ڈلّا گاو?ں میں گزشتہ دو دن پہلے باگھ کے حملے میں ہوئے ضعیف شخص کی موت کے بعد محکمہ جنگلات نے حملہ آور گلدار کو پکڑنے کے لیے گاو?ں میں پنجرا لگا دیا ہے۔واضح رہے کہ اتوار کے روز ا?س پاس کے علاقے میں ڈرون اڑایا گیا، جس میں پڈیارپانی گاو?ں میں بھی ایک باگھ کی سرگرمی کیمرے میں قید ہوئی ہے۔ باگھ لینس ڈائون رکن اسمبلی دلیپ سنگھ راوت پر بھی پہلے حملہ بول چکا ہے۔ لیکن کسی طرح رکن اسمبلی کی جان بچ گئی تھی۔ اس کے بعد وہ باگھوں کے جھْنڈ کو لے کر محکمہ جنگلات کے افسران سے لگاتار بات کر رہے تھے۔گرام پنچایت میلدھار کے پردھان خوشیندر سنگھ نے بتایا کہ باگھ کے حملے میں ایک ضعیف شخص کی موت کے بعد آس پاس کے گاو?ں میں دہشت بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ شام ڈھلتے ہی لوگ گھروں میں قید ہو جا رہے ہیں۔ حالانکہ محکمہ جنگلات کے اہلکار بندوقوں کے ساتھ لگاتار گشت کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے متاثرہ گاو?ں کے راستوں میں روشنی کا انتظام کرنے کے لیے 10 اسٹریٹ لائٹیں دی گئی ہیں۔ اسٹریٹ لائٹس کو متاثرہ گاو?ں تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔