انتخابی ضابطہ اخلاق کے چلتے رمضان بازار کی رونق پڑ گئی پھیکی

TAASIR URDU NEWS NETWORK –SYED M HASSAN 16 APRIL

بھٹکل ،16اپریل :انتخابی ضابطہ اخلاق اور شدت کی گرمی کے چلتے رمضان کے آخری عشرے میں مین روڈ پر لگنیوالے رمضان بازارکی رونق کم ہوتی نظر آرہی ہے۔ البتہ رات کے اوقات میں عوام کا ہجوم دیکھا جارہا ہے۔بھٹکل کا رمضان بازار ہر سال شہر کے لئے ایک خصوصی رونق کا باعث بنتاہے اور خریداری کا مرکز ماناجاتاہے۔ صرف شہر کے ہی نہیں بلکہ اور پڑوسی تعلقہ جات کنداپور، ہوناور سے بھی لوگ یہاں خریداری کے لئے آتیہیں ،رمضان بازار کی خصوصیت یہ ہیکہ یہاں صرف مسلمان ہی تاجر نہیں ہوتے اور نہ خریدنے والے صرف مسلمان ہوتیہیں بلکہ تاجر اور خریداروں میں ہندو مسلم دونوں شامل ہوتے ہیں۔ بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ شدت کی گرمی کی وجہ سے مارکیٹ میں لوگ کم آرہے ہیں لیکن آخری دنوں میں رمضان مارکیٹ اپنی بہار پر لوٹنے کی امید بھی جتارہے ہیں۔ہرسال مین روڈ پر واقع میونسپالٹی کی57 جگہوں کی نشاندہی کرتیہوئے قرعہ اندازی سے دکانیں تقسیم کی جاتی تھیں۔ اور میونسپالٹی حدود کے مکینوں کو ہی یہ دکانیں الاٹ کی جاتی تھیں۔57دکانوں کے لئے ہزار سے زائد لوگ عرضیاں داخل کرتے تھے پھر قرعہ اندازی سے انہیں دکانیں دی جاتی تھیں قرعہ اندازی کے دن عوام کی بھیڑ اور بولی کامنظر دیکھنے کے لائق ہوتاتھا۔لیکن امسال اسمبلی انتخابات کااعلان ہونے اور انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونیکی وجہ سے 144 دفعہ لگائی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے میونسپالٹی میں عوامی ہجوم کو الیکشن کمشنر نے موقع فراہم نہیں کیا ہے یہی وجہ ہے کہ میونسپالٹی نے اس مرتبہ رمضان دکانوں کی قرعہ اندازی کی بولی کو رد کردیا۔ جس کی وجہ سے میونسپالٹی کی آمدنی کوکافی نقصان ہواہے۔ ذرائع کے مطابق ہر دکان پر میونسپالٹی 3ہزارروپئے کرایہ لیتی تھی تو لاکھوں روپیوں کے نقصان کی بات کہی جارہی ہے۔ میونسپالٹی کی جانب سے جب دکانوں کی نیلامی نہیں ہوئی تو سننے میں آرہا ہے کہ مقامی لوگوں نے خود ہی اپنی اپنی جگہیں مقررکرکے دوسروں کو کرایہ پر دے دیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ رمضان کے ا?خری دس دنوں کے لئے فی باکڑہ پر 5 سے 50ہزارروپیوں تک کا کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔