Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 APRIL
پچھلے چند دنوں سے ملک کی زمینی سیاست میں اندر ہی اندر بھونچال سا آگیا ہے۔یوپی کے پارلیمانی حلقہ پھولپور سے ایک بار ایم پی اور یوپی اسمبلی میں پانچ با رکن رہے عتیق احمد کے خلاف پولس سے لیکر میڈیا تک کام کرنے والی مسلم مخالف طاقتوں نے ایک ایسا بیانیہ قائم کیا ہے جیسے مجرمانہ کردار کے حامل چند مسلمانوں کے ذریعہ ہی برسوں سے وطن عزیز بھارت کا امن و مان درہم برہم ہو۔ عتیق احمد ، ان کے بھائی اشرف اور بیٹے اسد کو مار دئے جانے کے بعد ان بیوی شائستہ کو پکڑنے کے لئے پورے اتر پردیش کی پولس کو اس طرح لگا دیا گیا ہے، جیسے یہ حکومت کے وقار کا مسئلہ بن گیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ یکے با دیگرے 19 سالہ اسد، غلام محمد، عتیق احمد اور اشرف احمد کو جس طرح سے اور جس صورتحال میں گولیوں سے بھون دیا گیا ہے، اسے انصاف نہیں بلکہ انتقام کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔معاملات کے سیاق و سباق پر نظر رکھنے والے تو یہ بھی کہہ رہے ہیںکہ اس کارروائی کے پیچھے صرف اور صرف ووٹ کی سیاست کا ہاتھ ہے۔ مجرمانہ واردات تو محض ایک بہانہ ہے۔اصل نشانہ تو کہیں اور ہے۔
پچھلے سنیچر دیر شام یکایک چونکانے والی خبر آ نے لگی تھی کہ الٰہ آباد ، جس کا نام بدل کر پریاگ راج کیا گیا ہے، میں عتیق احمد اوران کے بھائی اشرف احمد کا پولس کے حفاظتی حصار میں قتل کردیا گیا ہے۔عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کو میڈیکل چیک اپ کے لیے لےجاتے ہوئے یہ سنسنی خیز اور سفّاک مجرمانہ واردات انجام دی گئی۔ دو دن پہلے ہی عتیق احمد کے بیٹے کا اسد کا یوپی پولیس نے انکاؤنٹر کر دیا تھا۔ پولس کے ذریعہ انکاؤنٹر ہو یا پولس کے حفاظتی حصار میں قتل ، دونوں پولس کے کردار پر بڑا سوالیہ نشان ہیں۔جب عتیق احمد کو سابرمتی جیل سے پریاگ راج جس طرح سے لایا اور لے جایا جا رہا تھا، اسی سے بہت سارے لوگوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ شروع سے ہی ایسا لگ رہا تھا یوپی پولس کی نیت کبھی بھی ان ملزمین کو عدالتی مراحل سے گزارنے کی نہیں بلکہ انتقامی آگ کو ٹھنڈا کرنے اور ووٹ کی سیاست گرم کرنے کی تھی۔الزام لگانے والے تو کھلے عام یہ بات کہہ رہے ہیں کہ دو دن پہلے ہی عتیق احمد کے بیٹے اسدکو نام نہاد انکاؤنٹر پر افسوسناک طورپر گودی میڈیا اور سخت گیر’’ ہندوتوا سماج‘‘سماج نے جس طرح کا جشن منایا تھا، غالباً اسی سے حوصلہ پاکر عتیق احمد اور اس کے بھائی کو قتل کردیا گیا تاکہ مذکورہ سماج کی نفسیات کو مزید تسکین پہنچائی جا سکے۔
عتیق احمد کا مجرمانہ ریکارڈ سب کے سامنے ہے۔ ایسے شخص کی قطعی حمایت نہیں کی جانی چاہئے۔لیکن بغیر قانونی مراحل سے گزارے اور مجرم کو اپنے دفاع میں کچھ کہنے کا موقع دئے بغیر گولیوں سے بھون دینا کیا ایک مہذب سماج کا طریقہ ہے ؟ مجرم خواہ کوئی بھی ہو اسے تفتیش اور اصولی آئینی مراحل سے گزار کر عدالت کے ذریعے انہیں قرار واقعی سزا تک پہنچانا چاہیے۔اور پھر عتیق احمد کا جہاں مجرمانہ ریکارڈ تھا وہیں یہ بھی حقیقت ہی ہے کہ وہ اسی ہندوستان کی صوبائی اسمبلی و ملکی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے ہیں۔ایسے شخص کو کچھ لوگ پولیس کسٹڈی کے درمیان کیسے قتل کرسکتے ہیں؟ کیا یہ مجرمانہ قتل پولیس کے کردار کو بھی مجروح نہیں کرتاہے؟ کیا یہ قاتلانہ واردات یوگی سرکار کو کٹہرے میں نہیں لاتی ہے؟ پہلے عتیق کے بیٹے کا انکاؤنٹر پھر عتیق اور اس کے بھائی کا قتل وہ بھی پولیس تحویل کے درمیان کیا یہ واردات اس ذہنیت کا پتانہیں دیتی ہیں کہ اگر ملزمین و مجرمین مسلم نام والے ہوں گے تو انہیں سڑک پر گولی ماردی جائےگی؟ کیا ایسی واردات بھارت میں آئینی ٹرائل اور عدالتی نظامِ انصاف کا مذاق نہیں اڑاتی ہیں؟سرکاریں اگر سڑکوں پر ٹھوک دو کلچر کو بڑھاوا دینے لگ جائیں تو ان میں اور کرائے دار غنڈوں کی گینگ میں کیا فرق رہ جاتاہے؟ پولیس کے حفاظتی حصار توڑ کر گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کئی اپوزیشن لیڈروں نے پورے معاملے کی عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس دوران معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔ دو افراد نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ماحول حق اور مخالف میں تقسیم ہے۔ یہ صورتحال ملک کی صحت کے لئے اچھی نہیں ہے۔ انصاف پسند لوگوں کو کھل کر سامنے آنے کی ضرورت ہے۔
*******************