آذربائیجان میں ’بغاوت کی سازش‘پرایرانی خفیہ اداروں سے تعلق رکھنے والے 6افراد گرفتار

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 06 APRIL

بانکو،6اپریل : آذربائیجان نے جمعرات کے روز چھے مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ ان کا تعلق ایران کے خفیہ اداروں سے ہے اور وہ باکو اور تہران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں آذربائیجان میں بغاوت کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ ہیں اور آذربائیجان ایران کے تاریخی حریف ترکیہ کا قریبی اتحادی ہے۔آذربائیجان میں یہ گرفتاریاں دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کشیدگی کے دوران میں عمل میں آئی ہیں۔باکوحکام نے الزام عاید کیا ہے کہ آذربائیجان کے چھے شہریوں کوایرانی خفیہ اداروں نے ملک میں صورت حال کو غیرمستحکم کرنیکے لیے بھرتی کیا تھا۔وزارت داخلہ، اسٹیٹ سکیورٹی سروس اور پراسیکیوٹرجنرل کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں ان گرفتاریوں کا اعلان کیا گیا ہے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ یہ گروپ آذربائیجان میں مسلح بدامنی اور پرتشدد طریقے سے آئینی نظام کا تختہ الٹنے کے لییایک ‘مزاحمتی اسکواڈ’ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔گرفتارافراد پرالزام عاید کیاگیا ہے کہ وہ ’’مذہبی بنیاد پرستی کے ایران نواز پروپیگنڈے میں ملوّث ہیں اور آذربائیجان کی رواداری کی روایت کو کمزور کرنے کے لیے بیرون ملک سے ملنے والے احکامات پرعمل درآمد کر رہے ہیں‘‘۔بیان کے مطابق انھوں نے منشیات کی اسمگلنگ کے منافع سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال کرتے ہوئے’’بنیاد پرست اسلام‘‘کو فروغ دیا ہے۔واضح رہے کہ جنوری میں آذربائیجان نے تہران میں اپنے سفارت خانے کا آپریشن معطل کردیا تھا۔اس سے چند روزپہلے ایک مسلح شخص نے سفارت خانے پر حملہ کیا تھا اور اس کی فائرنگ سے ایک محافظ ہلاک اور دو دیگر زخمی ہو گئے تھے۔باکو نے دعویٰ کیا تھاکہ اس حملے میں ایران کی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ کارفرما تھا۔تیل کی دولت سے مالامال اس ملک نے گذشتہ سال ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں اپنے پانچ شہریوں کو گرفتارکیا تھا۔ان کے علاوہ اس نے ‘ایران کی جانب سے قائم کردہ غیرقانونی مسلح گروہ’ سے تعلق رکھنے والے سترہ افراد کو بھی گرفتارکیا تھا۔آذربائیجان اورآرمینیا کے درمیان گذشتہ کئی دہائیوں سے نگورنوقراباخ پرجاری تنازع میں ایران آرمینیا کی حمایت کررہاہے۔آذربائیجان اس وجہ سے بھی ایران سے نالاں ہے اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔ایران میں ترک بولنے والے نسلی آذری لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ایران طویل عرصے سے آذربائیجان پریہ الزام عاید کرتا آرہا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں علاحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دے رہا ہے۔تہران کو یہ بھی خدشہ ہے کہ آذربائیجان کی سرزمین کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ حملے میں استعمال کیاجاسکتا ہے جبکہ آذربائیجان اسرائیل سے اسلحہ کا بھی بڑا خریدارملک ہے۔دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بحیرہ کیسپیئن کے نزدیک مشترکہ سرحد ہے۔