ایک خاص نظریہ کے حامل لوگوں میں خوشی

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 14 APRIL

قید و بند کی سزا بھگت رہے مافیا عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور شوٹر غلام کو یوپی اسپیشل ٹاسک فورس کے ہاتھوں 13 اپریل کو جھانسی میں ہوئے انکاؤنٹر کے بعد اس معاملے پر سیا ست گرم ہو گئی ہے۔اسے جھوٹا انکاؤنٹر بتاتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی حکومت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو نے اس انکاونٹر کو فرضی بتاتے ہوئے بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ یہ انکاؤنٹر جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ بی جے پی عوام کو اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ایس پی کے سربراہ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ انکاؤنٹر کی خاص تفتیش ہونی چاہئے اور مجرموں کو کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑا جانا چاہئے۔ اکھلیش یادو کے مطابق بی جے پی اصل مسائل سے توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ بی جے پی والے عدالت پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ اس انکاؤنٹر کی مکمل جانچ ہونی چاہیے۔ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنےکا حق اقتدار والی پارٹی کو بھی نہیں ہوتا ہے۔ بی جے پی بھائی چارے کے خلاف ہے۔
دوسری طرف بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اس انکاؤنٹر کو کانپور میں وکاس دوبے کے واقعہ سے جوڑتے ہوئے اس کی کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔انکاؤنٹر کے بعد مایاوتی نے اپنے ایک ٹویٹ میںکہا ہے ’’آج پریاگ راج کے عتیق احمد کے بیٹے اور ایک دوسرے کو پولیس مڈبھیڑ میں مارے جانے پر بہت سی بحثیں ہو رہی ہیں۔لوگوں کو لگتا ہے کہ وکاس دوبے کے واقعے کے دوبارہ ہونے کا ان کا اندیشہ سچ ہو گیا ہے۔ اس لیے اعلیٰ سطحی انکوائری ضروری ہے تاکہ واقعے کے مکمل حقائق اور حقیقت عوام کے سامنے آسکے۔ ‘‘مایاوتی پہلے بھی پولیس کے ذریعہ کی گئی اس طرح کی کارروائی پر سوال اٹھا چکی ہیں۔
امیش پال قتل کیس کے بعد، مایاوتی کا یہ بھی کہنا ہے کہ راجو پال قتل کانڈ کے گواہ امیش پال کے دن د ہاڑے قتل کو لے کر یوپی حکومت بہت زیادہ کشیدگی اور دباؤ میں ہے، لیکن پورا ملک یہ دیکھ رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا حکومت قانون کے ذریعے قانون کی حکمرانی کو نافذ کرے گی یا مجرموں کو سڑکوں پر ختم کر کے جرائم کو روکے گی؟ پریاگ راج میں امیش پال قتل کیس کے بعد اس سلسلے میں اچانک پولیس کی جو کارروائی عوام کے سامنے آئی ہے، اس نے قانون کی حکمرانی کو لے کر لوگوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال کھڑا ہوا ہے کہ یوپی میں، کیا حکومت اپنی ناکامیوں کوچھپانے کے لیے ایک اور وکاس دوبے کانڈکرے گی؟
وہیں اب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی نے بھی یوپی کی یوگی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اس انکاونٹر پر سوال اٹھائے ہیں۔اسدالدین اویسی نے اسد احمد کے انکاونٹر پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ کیا بی جے پی والے جنید اور ناصر کے مارنے والوں کو بھی گولی ماریں گے ؟ تم (بی جے پی) ان کا انکاونٹر نہیں کروگے کیونکہ تم مذہب کے نام پر انکاونٹر کرتے ہو۔ یہ انکاونٹر نہیں ، قانون کی دھجیاں اڑ ائی گئی ہیں۔ عدالت کس لئے ہے اورآئی پی سی اور سی آرپی سی کس لئے ہے؟ اگرتم لوگ چاہتے ہو کہ گولی سے انصاف ہو تو بند کردو عدالتوں کو۔ جج پھر کیا کام کریں گے؟“ اسد احمد کے انکاونٹر کے بعد برہم ہوئے اسدالدین اویسی کا کہنا ہے کہ سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ کوئی قتل کرتا ہے تو اس سزا دینا حکومت کا نہیں عدالت کا کام ہے۔
دوسری جانب اسد احمد اور شوٹر غلام کے انکاؤنٹر کے بعد ایودھیا کے ہنومان گڑھی مہنت راجوداس نے یوپی ایس ٹی ایف کے افسران کو51 ہزار روپئےانعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ مہنت راجو داس نے یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی بہت سی نیک خواہشات پیش کی ہیں۔ انہوں نے بغیر کسی کا نام لئے اپنے ایک طنزیہ پیغام میں کہا ہے’’ یا تو پرسکون ہوجاؤ یا ملک چھوڑ دو۔ یہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے۔ یہاں مافیا گیری نہیں چلے گی۔ ورنہ مٹی میں مل جا ؤ گے، جسے آ ج پورا ملک دیکھ رہا ہے۔‘‘ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نےانکاؤنٹر کی خبر ملنے کے بعد ہی ریاست کے قانون و انتظام پر ایک اعلی سطحی میٹنگ کی صدارت کی تھی۔سی ایم یوگی نے انکاؤنٹر میں شامل اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کے ساتھ ساتھ ڈی جی پی، اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر اور ان کی پوری ٹیم کی ستائش کی۔اس طرح اسد احمد اور شوٹر غلام کے انکاؤنٹر کو حق بجانب قرار دینے کے لئے سی ایم یوگی آدیتیہ ناتھ وہ سب کچھ کر رہے ہیں، جس سے کہ ان کے ٹی آر پی میں خوب اضافہ ہو سکے۔ان کے اس انداز سے ایک خاص نظریہ کے حامل لوگوں میں جو خوشی ہے وہ سوشل میڈیا پر صاف دکھائی دے رہی ہے۔