Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 17 APRIL
پشاور ،17اپریل : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں داسو ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئر کو پولیس نے مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں تحویل میں لے لیا ہے۔داسو پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل اْس وقت پیش آیا جب چینی انجنیئر نے مزدوروں کے کام کی سست رفتاری پر اعتراض کیا جس کے جواب میں مزدوروں نے نماز کے وقفے کی بات کی۔پولیس اہلکار کے مطابق مزدوروں اور چینی انجینئر کے درمیان تکرار لفظی جنگ میں تبدیل ہو گئی اور یوں مزدوروں نے سائٹ پر کام روک دیا۔ جس کے بعد انہوں نیاحتجاج کرتے ہوئے چینی انجینئر پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر شاہراہِ قراقرم کو بلاک کر دیا۔معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے وائس آف امریکہ کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ برسین کے علاقے میں ہونے والے اس احتجاج میں 400 سے 600 مظاہرین شریک تھے۔ یہ احتجاج اس وقت ختم ہوا جب احتجاج کرنے والوں کو چینی انجینئر کو پولیس تحویل میں لینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں ایک چینی باشندے کو پولیس کی تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے۔پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران توہینِ مذہب کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی صوبہ? پنجاب میں ایک خاتون اور ان کے بیٹے کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔تاہم ایسا پہلی بار ہو اہے کہ پاکستان میں کسی غیر ملکی کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔