Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15 APRIL
پٹنہ،15اپریل:ذات پات پر مبنی آبادی کی مردم شماری، وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا ڈریم پروجیکٹ، ہفتہ، 15 اپریل سے شروع گیاہے۔ بہار میں ذات پات کی مردم شماری کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، جبکہ ذات پات کی مردم شماری کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار بختیار پور سے ذات پات کی مردم شماری کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کریں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، ذات کی بنیاد پر گنتی دوسرے مرحلے میں 15 اپریل سے 15 مئی تک کی جائے گی۔اس دوران گھر گھر 17 سوالات پوچھے جائیں گے۔ درحقیقت ذات کی بنیاد پر گنتی کا دوسرا مرحلہ سب سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ شمار کنندگان جو اس کام کو انجام دیتے ہیں وہ 17 سوالات کی فہرست کے ساتھ لوگوں کے گھر پہنچیں گے۔ ذات کی گنتی کے دوسرے مرحلے میں، آپ سے متعلق مکمل معلومات حکومت کو شمار کنندہ کے ذریعے موصول ہوگی۔ ذات پات کی مردم شماری سے وابستہ حکام بتاتے ہیں کہ جن گھروں کو ذات مردم شماری کے پہلے مرحلے میں شمار کیا گیا تھا۔دوسرے مرحلے کا حساب اسی کے سیریل نمبر کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ گنتی کے دوسرے مرحلے کے دوران آن لائن کے ساتھ آف لائن گنتی کا کام بھی کیا جائے گا۔ اس دوران لوگوں سے لی گئی معلومات اور دستخطوں پر مشتمل دستاویزات کو اپ لوڈ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی تنازعہ نہ ہو اور اس عمل میں مکمل شفافیت ہو۔برہمن ذات سے تعلق رکھنے والے لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان کی ذات کو مردم شماری میں ذات پات کا ضابطہ نہیں دیا گیا ہے۔ اس طرح برہمنوں کو اس سے خارج کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی ذات کا آدھا نام لکھ کر کنفیوڑن پیدا کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گوتر کو الگ ذات قرار دے کر تقسیم کرنے کی سازش رچی گئی ہے۔ درحقیقت، برطانوی دور میں ہونے والی ذات پات کی مردم شماری (1931) میں جن ذاتوں کے لوگوں کو بھومیہار برہمن یا بابھن کے طور پر درج کیا گیا تھا، انہیں 1872 کے پہلے تاریخی ریکارڈ میں بھی برہمن لکھا گیا ہے۔ 1931 کی اس ذات پات کی مردم شماری کے باوجود بھومیہار برہمن خود کو برہمنوں سے مختلف نہیں سمجھتے اور ان کا دوسرے برہمنوں کے ساتھ رشتہ بھی ہے۔ ذات کی مردم شماری 2023 میں ذاتوں کے نام کوڈ جاری ہونے سے پہلے بھومیہار برہمن پرسکون تھے، لیکن ان کا احتجاج سروے کی تاریخ کے ساتھ بڑھتا گیا۔ پہلا احتجاج یہ ہے کہ برہمنوں کے علاوہ ان کا شمار کیسے کیا جا سکتا ہے۔بھومیہار برہمن ایکتا منچ کے سرکردہ لیڈر آشوتوش کمار ذات پات کی مردم شماری کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے انگریزوں نے بھومیہار برہمنوں کو برہمنوں سے الگ کرنے کی پالیسی اپنائی اور اب نتیش حکومت انہیں اسی طرح تقسیم کر رہی ہے۔ ان کی تقسیم سے رشتہ دار متاثر نہیں ہوں گے لیکن برہمنوں کی سیاسی داؤ پر اثر انداز ہونے کی سازش ضرور کامیاب ہوگی۔بھومیہار برہمن لیڈر آشوتوش کا کہنا ہے کہ ذات پات کے مردم شماری کوڈ میں 126 برہمن ہیں۔ اگر تمام بھومیہار برہمن 126 پر جائیں تو ٹھیک ہے، لیکن اگر کچھ یا زیادہ لوگ حکومت کی طرف سے نئی اعلان کردہ ذات ‘بھومیہار’ کے لیے 142 نمبر کا کوڈ درج کرتے ہیں، تو صحیح اعداد و شمار کا کبھی پتہ نہیں چل سکے گا۔ دراصل 142 نمبر کے کوڈ میں صرف ‘بھومیہار’ لکھنے سے سب سے زیادہ پریشانی ہو رہی ہ