سوڈانی فوج کی منحرف ریپیڈ ایکشن فورس کے کمانڈ سینٹر پر قبضے کی تردید

TAASIR URDU NEWS NETWORK –SYED M HASSAN 16 APRIL

خرطوم ،16اپریل: سوڈان کی مسلح افواج نے بغاوت کرنے والی ریپیڈ ایکشن فورس کے کمانڈ سینٹر پرکنٹرول کی تردید کی ہے۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریپیڈ ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے جنرل کمانڈ ، ملٹری مینوفیکچرنگ ہیڈ کواٹر اورصدارتی محل پر قبضیکے جھوٹے دعوے کررہی ہیجبکہ ان کے فوجی اور افسران بغیر علاج کیسڑکوں زخمی حالت میں پڑے ہیں اور ان کی قیادت چھپ گئی ہے۔ مسلح افواج کا کہنا ہے کہ تمام مسائل جلد حل ہوجائیں گے اور بغاوت کو کچل دیا جائے گا۔ریپڈ سپورٹ فورسز نے ہفتے کیروزسوڈان میں مسلح افواج اور ایئر نیویگیشن کے جنرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر پراپنے کنٹرول کیساتھ ساتھ ریڈیو اور ٹیلی ویڑن کی پبلک اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹر پر بھی اپنے قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریپیڈ ایکشن فورس کی افواج نے خود مختار کونسل کے صدر عبد الفتاح البرہان کے مقام کے ٹھکانے کے بارت میں بھی بتایا اور دعویٰ کہا کہ انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مروی میں مصری افواج کے بارے میں ریپیڈ ایکشن فورسز نے کہا ہے کہ وہ سکیورٹی کے حالات پرسکون ہونے کے ساتھ ہی “مصری شہریوں کو ان کی قیادت کے حوالے کرنے کے لئے تیار ہیں۔دوسری طرف سوڈانی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ریپیڈ ایکشن سپورٹ فورس کے انٹلیجنس کے سربراہ میجر جنرل الخیر ابو مریدات منحرف ہونے کے بعد ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔فوج نے فیس بک پر کہا کہ ابو مریدات نے محکمہ انٹیلیجنس کے حوالے کیا گیا ہے۔اس تناظر میں سوڈان ٹریبیون اخبار نے اطلاع دی ہے کہ فوج کے درمیان جھڑپوں اور دارفور کے صوبے میں نیالہ شہروں میں ریپیڈ فورس اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں سویلین اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اخبار نے الفشر ایجوکیشنل اسپتال میں ایک پیرامیڈک کے حوالے سے بتایا ہے کہ 16 زخمی اسپتال لائے گئے ہیں جن میں سے کچھ کی حالت خطرناک ہے۔نیالہ میں جھڑپوں کے دوران ہفتے کے روز کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ساتھ ہفتے کے شروع میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔