سپریم کورٹ کے 7ججوں کے خلاف جوڈیشل کائونسل میں اپیل دائر

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15 APRIL

کراچی ،15اپریل: پاکستان کا سپریم کورٹ سیاسی جماعتیں کے لئے اکھاڑا بن گیا ہے ایک طرف 8ممبروں پر مشتمل بنچ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو پنجاب میں انتخابات عمل میں لانے کے لئے 21ارب روپئے مختص کرنے کا حکم یا تودوسری طرف اس بنچ کے اراکین کے خلاف سپریم جوڈیشل کائونسل میں عرضداشت دائر کی گئی ہے۔ یہ اپیل سینئر وکیل میاں دائود نے دائر کی جنہو ںنے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ سا ت ججوں کو نکالنے کے لئے درخواست دی اور کہا کہ چیف جسٹس اور ان کے ساتھ بار بار عدالتی روایت کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ چیف جسٹس اور ان کے ساتھیو ںنے اس قانون کو عمل درآمد روک دی ہے جس کے ذریعہ عرضداشت کو اپیل کا حق دیا گیا ہے۔ میاں دائود نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی یہ قانون ہی بنا کہ چیف جسٹس نے اس پر پابندی لگائی ۔ یہ قانون کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے حال ہی میں ایک قانون کی منظوری دی جس میں کہا گیا کہ چیف جسٹس ازخود نوٹس کیس میں دواوار سینئر ججوں کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد ہی فیصلے دے سکتا ہے۔ اور ا سکے علاوہ کسی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق ہے۔ مسٹر دائو نے کہا کہ بنچ کے ممبروں کا رویہ افسوسناک ہے او را س سے عدلیہ کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ لوگوںکا عدلیہ سے بھروسہ اٹھ جائیگا ۔ شہباز شریف کی حکومت اوراس کی اتحادی پارٹیاں چیف جسٹس پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ عمران خان کے حمایتی ہیں او ران کے حق میں عدالتی فیصلہ سنا رہے ہیں۔ اور اس عمل میں عدلیہ کی شبیہ خراب ہورہی ہے ۔ حالیہ ہفتوںکے دوران کچھ ایسے فیصلے بھی آئے جس میں عدالت انصاف کے پیمانوں پر سوالیہ نشانات لگائے گئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جوڈیشنل کائونسل اس بارے میں کیا فیصلہ لے سکتی ہے۔ صوبے پنجاب کے الیکشن پر شہباز شریف کی حکومت اور عمران خان کی پارٹی کے درمیان رسہ کشی برابرجاری ہے۔ ایک طرف عمران خان جلدازجلد الیکشن کے حق میں ہیں۔ تو دوسری طرف الیکشن کمیشن الیکشن کو 8اکتوبر تک کرانے کے حق میں ہے۔ درخواست کنندہ نے کہا کہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے 8ججوں نے پارلیمنٹ کی منظور کردہ بل کو سماعت کے لئے مقررکرکے اختیارات سے تجاویز کرگئے یہ عدالت عالیہ کے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے خلاف ہے اور آئین کے 209کے خلاف ہے۔