Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 06 APRIL
مدھیہ پردیش میں اس سال کے آخر میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس دونوں ہی اقتدار میں واپس آ نے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ادھر کانگریس اپنی تیاریاں کر رہی ہے اور ریاستی کانگریس کی گروہ بندی سے بھی جوجھ رہی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں جیت کے باوجود بی جے پی کی سیاست سے مات کھاکر اقتدار سے محروم ہوچکی کانگریس میں اس بار بھی گروہ بندی شباب پر ہے۔ حالات ایسے ہیں کہ انتخابات سے قبل ہی پارٹی میں ایک اور پھوٹ کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ راہل گاندھی کا ایک اور قریبی نوجوان رہنما بغاوت کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2018 میں، وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں بی جے پی کو ہٹانے کے بعد، کانگریس 15 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آنے میں کامیاب ہوئی، لیکن پارٹی رہنماؤں کی سیاسی خواہشات نے اسے بہت جلد ہی اقتدار سے باہر کا رادستہ دکھا دیا تھا۔ جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ 22 کانگریس ایم ایل ایز مارچ، 2020 میں بی جے پی میں چلے گئے اور کمل ناتھ حکومت 15 ماہ کے اندر لڑ کھڑاگر گئی۔ اس کے نتیجے میں، بی جے پی اقتدار میں واپس آئی اور شیوراج چوتھی بار وزیر اعلیٰ بن گئے۔ یہ پارٹی کی اندرو نی گروہ بندی ہی تھی، جس نےسندھیا کی کانگریس سے علیحدگی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کمل ناتھ اور دگ وجئے سنگھ کی جوڑی نے پارٹی میں سندھیا کو الگ کر دیا تھا۔
یہ سب جانتے ہیں کہ سندھیا کے پارٹی چھوڑنے کے بعد سے دگ وجے سنگھ اور کمل ناتھ بی جے پی کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔ انٹی ان کمبنسی سے جوجھ رہی بی جےپی کو کانگریس کے سوالوں کا جواب دینا مشکل ہو رہا ہے۔مگر کانگریس کی گروہ بندی اس کے پاؤں کی زنجیر بنی ہوئی ہے۔ اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ کیا 2020 میں سندھیا نے جو کام کیا وہ 2023 کے انتخابات کے بعد دہرایا تو نہیں جائے گا ۔ پارٹی میں الگ تھلگ رہنے والے نوجوان لیڈر جیتو پٹواری کہیں اس بار اگلے سندھیا تو نہیں بن جائیںگے ۔
سیاسی مبصرین کا دعویٰ ہے کہ کمل ناتھ کی قیادت کو چیلنج کرنے والے سابق وزیر جیتو پٹواری اقتدار میں واپس آنے پر بھی کانگریس کا کھیل خراب کر سکتے ہیں۔ پٹواری اندور کی راؤ اسمبلی سیٹ سے ایم ایل اے ہیں۔ برسوں کے دوران، وہ ایک بااثر رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ مختلف مواقع پر اپنی قابلیت بھی دکھا چکے ہیں، لیکن پارٹی کے بڑے لیڈر ان کی اس قابلیت کی وجہ سے فکرمند رہتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ پٹواری ریاست کے سب سے زیادہ سرگرم کانگریس لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ وہ عام لوگوں تک پہنچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ اسمبلی میں بھی وہ حکومت پر حملہ کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ ان کے جارحانہ رویے کے باعث اسپیکر نے انہیں اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان سے معطل بھی کر دیا تھا۔ ان کے حامی ریاست بھر میں موجود ہیں۔ حال ہی میں ریوا کے دورے کے دوران پٹواری کے تقریباً 100 گاڑیوں میں وہاں پہنچے تھے۔ اس سے پہلے پٹواری کے حامی چاہتے تھے کہ انہیں ریاستی کانگریس کا صدر بنایا جائے۔ اس کے لیے حامیوں نے مرکزی قیادت پر دباؤ ڈالا تھا، لیکن بڑے رہنماؤں کی مخالفت کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ لیکن یہ عین ممکن ہے کہ اگر اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو پٹواری کے حامی انہیں وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کریں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ظاہر ہے کہ پارٹی کے دیگر قائدین اس کی شدید مخالفت کریں گے۔ اگر محاذ آرائی کی صورتحال پیدا ہوئی تو پٹواری بھی سندھیا کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ایسا اس لئے کہا جا رہا ہے کہ جیتو پٹواری کے بڑھتے ہوئے سیاسی گراف کو کانگریس کے کچھ لیڈر ایک چیلنج کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پارٹی میں تنہا کرنے اور ان کی طاقت کو کم کرنے کی بارہا کوششیں ہوتی رہی ہیں۔ جب انہیں اسمبلی سے معطل کیا گیا تو کانگریس قیادت نے ان کی حمایت نہیں کی تھی۔ اگر کسی اور کو اس طرح کی معطلی کا سامنا کرنا پڑتا تو پوری کانگریس، اسپیکر کے فیصلے کے خلاف احتجاج کر سکتی تھی، لیکن پٹواری تنہا رہ گئے تھے۔
بلا شبہہ پٹواری کے جارحانہ انداز نے ان کے سیاسی گراف کو بھی بڑھا دیا ہے۔ پچھلے اسمبلی اجلاس کے دوران پٹواری نے شیوراج حکومت پر الزام لگایاتھا کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی سیاسی میٹنگوں کے لیے عوام کا پیسہ ادا کرتی ہے۔ الزامات سے تلملا اٹھی بی جے پی کو منہ توڑ جواب دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ 49 سالہ پٹواری لاء گریجویٹ اور ایک بااثرمقرر ہیں۔ پارٹی کے سابق قومی صدر راہول گاندھی سے بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ راہل کے ساتھ ان کی قربت مدھیہ پردیش میں’’ بھارت جوڑو یاترا‘‘ کے دوران بھی دیکھی گئی۔ راہل موقع بے موقع پٹواری کی تعریف بھی کرتے رہتے ہیں۔مگر جب اقتدار کے لئے دو نسلوں سے راہل گاندھی اور جیوترادتیہ سندھیا کے درمیان چلی آرہی دوستی دشمنی میں بدل سکتی ہے تو کیا وقت آنے پر جیتو پٹواری اپنی الگ راہ اختیار نہیں کر سکتے ہیں ؟ کر سکتے ہیں کیوں کہ لوگ کہتے ہیں، کہ سیاست میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔
***********************