عتیق احمد اور اشرف احمد کے قتل کے بعد پورے اتر پردیش میں ہائی الرٹ، پریاگ راج میں دفعہ 144 نافذ

TAASIR URDU NEWS NETWORK –SYED M HASSAN 16 APRIL

لکھنو،16اپریل: پولیس حراست میں عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف احمد کے سنسنی خیز قتل نے ایک سنسنی پیدا کر دی ہے۔ میڈیا اہلکاروں و پولیس کی موجودگی میں ویڈیو کیمرہ کے سامنے ہفتہ کی شب تقریباً 10.30 بجے پیش آئے اس حادثہ کے بعد حالات بے قابو نہ ہوں، اس لیے پریاگ راج سمیت پورے اتر پردیش میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پریاگ راج میں دفعہ 144 بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پی اے سی اور آر اے ایف کی تعیناتی بھی کر دی گئی ہے۔موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی، کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کے ہیڈکوارٹر کے ا?س پاس کثیر تعداد میں پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ عتیق کے بیٹے اسعد کے انکاو?نٹر پر سوال اٹھانے والے اپوزیشن پارٹی لیڈران کو نظر بند کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔اس درمیان عتیق احمد اور اشرف احمد کے قتل پر سوال اٹھنے بھی شروع ہو گئے ہیں۔ راشٹریہ لوک دل لیڈر جینت چودھری نے کہا ہے کہ کسی کی بھی ہمدردی عتیق کے ساتھ نہیں ہے، لیکن انسانیت کی نظر سے دیکھا جائے تو کسی کا بھی اس طرح قتل ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ جینت چودھری نے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کو (اس قتل معاملہ پر) جواب دینا چاہیے کیونکہ جب انکاو?نٹر ہوتا ہے تو پولیس اہلکاروں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں۔ پولیس والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مجرم کو سزا دلوائیں۔ وزیر اعلیٰ خود اس نظام میں شامل ہیں۔ ا?ج ان کی خود کی جوابدہی بنتی ہے۔‘‘