عتیق احمد اپنے بیٹے کے تدفین میں شامل نہ ہوسکے

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 15 APRIL

پریاگ راج ،15اپریل:عتیق احمد اپنے بیٹے اسد احمد جنہیں دودن پہلے پولیس نے ایک انکائونٹر میں ہلاک کیا اس کے آخری رسومات میں شریک نہیں ہوسکے۔ اسد احمد کو آج سیکورٹی کے سخت انتظامات کے نگرانی میں آبائی قبرستان میں دفن کیا گیا ۔ ا س موقع پر ان کے کچھ خاص رشتے دار موجود تھے۔ تدفین کی عمل ایک گھنٹے میں مکمل کی گئی اور پولیس نے کچھ مقامی لوگوںکو ان کے نمازجنازہ میں شامل ہونے کی اجازت دی ۔ اسد احمد کے چچا ان کے جسد خاکی لیکر قبرستان پہنچے ۔ عتیق احمد نے کل مجسٹریٹ کو درخواست دی تھی کہ انہیں بیٹے کی تدفین میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے چونکہ کل امیڈیکر جنتی کی وجہ سے چھٹی تھی اس لئے اس کی عرضداشت سنی نہیں جا سکی ۔ او را س سے پہلے ان کے بیٹے کے آخر ی رسومات ادا کئے گئے۔ اسد اور ان کے ساتھ غلام امیش پال کے قتل میں مطلوب تھے ۔ اسد عتیق احمد کا تیسرا بیٹا تھااور جب سے امیش کا قتل ہوا وہ لا پتہ ہوگئے ہیں ان کے چار بیٹے حراست میں ہیں بڑے بیٹے عمر کو لکھنو کے جیل میں رکھا گیا ہے جب کہ دوسرا بیٹا علی نینی سینٹرل جیل میں ہے۔ اس کے دواور بیٹے نابالغ ہیں اور انہیں بچوں کے ایک حراستی سینٹر میں رکھا گیا ہے۔