فیصلہ آنے والا وقت کرے گا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 03 APRIL

ریاست بہار کے سہسرام اور نالندہ میں رام نومی کے موقع پر تشدد کے بعد حالات کو معمول پرلانے کی کوشش جاری ہے۔ پولیس انتظامیہ چوکس ہے۔ حالانکہ شر پسند عناصر اپنی عادت سے باز نہیں آ رہے ہیں۔ سوموار کی اولین ساعتوں میں سماج دشمن عناصر نے سہسرام کے امن کو ایک بار پھر خراب کرنے کی کوشش کی تھی۔ موٹر سائیکل پرآکر کچھ نوجوانوں نے بم پھینک کر ماحول کو خراب کرنا چاہا تھا،۔ تاہم، جلد ہی آر پی ایف اور ایس ایس بی نے حالات کو قابو میں کر لیا۔پھر بہار کے ڈی جی پی آر ایس بھٹی بھی سہسرام پہنچ گئے۔ اگر ہم نالندہ ضلع کے صدر دفتر بہار شریف کی بات کریں تو وہاں حالات نارمل ہیں۔ تادم تحریر انٹرنیٹ اگلے احکامات تک بند ہے۔ مرکزی نیم فوجی دستوں کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں میں چارج سنبھال لیا ہے۔ دوسری طرف بہار اسمبلی میںسوموار کے روز نالندہ اور سہسرام کا معاملہ چھایا رہا۔ بہار اسمبلی میں ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ اٹھایا گیا۔ بی جے پی نے اسمبلی کی کارروائی شروع ہوتے ہی معاملے زوردار طریقے سے اٹھایا۔ اس دوران نعرے بازی اور شور شرابا جم کر ہوا۔ بی جے پی ایم ایل اے ہاتھوں میںپوسٹر لے کر ایوان میں پہنچے تھے۔ تاہم سپیکر نے مارشل سے بات کی اور ان سے پوسٹرز لے لیے گئے۔حزب اختلاف کے لیڈر وجے سنہا نے بہار میں تشدد پر نتیش حکومت کو نشانہ بنایا۔
الغرض بی جے پی نے نتیش حکومت پر شدید حملہ کیا۔اس کے جواب میں عظیم اتحاد کےاراکین نے بھی بی جے پی اراکین کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔دونوں ایک دوسرے پرمعاملے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگاتے رہے۔
اِدھر سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بہار میں جو کچھ بھی ہوا ہے ، اس کی آگ بی جے پی کے لوگوں نے سلگائی ہے۔رام نومی کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا آنا کسی بھی طرح سے اچھی علامت نہیں تھا۔مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان چل رہا ہے۔ٹھیک افطار کے وقت بہار شریف کے مسلم محلوں میں مشتعل جلوس نکال کر افطار کی تیاری میں مصروف مسلمانوں کو دفاعی اقدام کے لئے مجبور کیا گیا۔لوگوں کا ماننا ہے کہ اس طرح سے ماحول کو خراب کرنے کے پیچھے انتخابی حکمت عملی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں بڑی شکست کا خوف ہے۔ شاید بی جے پی کو لگتا ہے کہ بہار نے جو نتائج 2019 میں دیئے تھے وہ 2024 میں پلٹ سکتے ہیں۔ایسا کسی بھی قیمت پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہونے دینا نہیں چاہتے ہیں۔ نوادہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اس جانب اشارہ بھی کیا تھا۔مرکزی وزیر گریراج سنگھ اور بی جے پی کے دوسرے لیڈروں کے جو بیانات ادھر سننے کو ملے ہیں ان میں حقیقت کم بوکھلاہٹ زیادہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔
اس بیچ آر جے ڈی کے قومی نائب صدر اور لیڈر شیوانند تیواری نے 2024 کے بارے میں ایک بڑی پیشین گوئی کی ہے۔ نوادہ میں امیت شاہ کی ریلی کے تناظر میں راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر شیوانند تیواری کا کہنا ہے کہ’’ بی جے پی اگلے لوک سبھا انتخابات میں بہار میں گزشتہ انتخابات کے نتائج کو الٹنے کے امکان سے خوفزدہ ہے۔ اسی لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپنی میٹنگ میں بہار کے لیے اچھے الفاظ کا استعمال نہیں کیا۔ نوادہ اجلاس میں انہوں نے بہار کی حکومت کو فسادیوں کی حکومت قرار دیا۔ امیت شاہ نے یہ بھی کہا کہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔‘‘شیوانند تیواری کا کہنا ہےکہ بہار حکومت کا ماننا ہے کہ’’ بہار شریف اور سہسرام دونوں مقامات پر تشدد ایک سنگین سازش کا نتیجہ ہے۔ حکومت تحقیقات کرا رہی ہے۔ جلد ہی سازش بے نقاب ہوگی۔ دراصل بی جے پی بہار سے خوفزدہ ہے۔ وہ 2015 کو نہیں بھول سکتی ہے۔ اس وقت بھی لالواورنتیش کا اتحاد ہوا تھا۔ 2015 کے انتخابات میں بی جے پی کے تجربہ کار لیڈر بہار کی ہر گلی کوچے میں تلاش کرتے رہے لیکن ریاست میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ لالو اورنتیش مخلوط حکومت بنی۔ اس بار بھی بائیں بازو کی جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہوئی ہیں۔ اس لیے اگلے لوک سبھا انتخابات میں ملک میں مودی کی حکومت بن پائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ بہار کو ہی کرنا ہے۔ بہار کا موجودہ عظیم اتحاد لوک سبھا کے پچھلے نتائج کو پلٹنے کی پوزیشن میں نظر آرہا ہے۔ بی جے پی کو ڈر ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ان کے لیے ملک میں اگلی حکومت بنانا ممکن نہیں رہے گا۔ اس خوف کا اثر نوادہ میں امت شاہ کی زبان پر نظر آرہا تھا۔ ‘‘ مگر بی جے پی کا دعویٰ اس سے بالکل الگ ہے۔ لیکن وزیر داخلہ امت شاہ جس طرح اپنی موجودگی سے بہار کی سیاست پر پا رٹی کے دباؤ کو بنائے رکھنا چاہتے ہیں، اس سے جو اشارے مل رہے ہیں، وہ شیوانند تیواری کے دعوے سے بہت قریب نظر آ رہے ہیں۔ویسے دونوں کی دعویداری کتنی مضبوط ہے، یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔
***************