Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 01ST APRIL
پٹنہ، یکم اپریل(ہ س)۔ رام نومی کے دوران بہار کے سہسرام اور نالندہ میں بہت زیادہ تشدد ہوا تھا ، جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ حکومت الرٹ موڈ میں ہے۔ افسران مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ گڑبڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات دی گئی ہیں۔ کسی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا۔ وہاں انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔ساتھ ہی ایک سوال کے جواب میں نتیش کمار نے کہا کہ یہ امن و امان کا نہیں بلکہ ایک دیگرمعاملہ ہے۔ اب حالات قابو میں ہیں ، پولیس اور انتظامیہ وہاں کارروائی کر رہی ہے ، گڑبڑ کیوں اور کیسے ہوئی اس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولس کو جلد ایکشن لینے کیلئے کہا ہے۔ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ ضرور کسی نے ادھر ادھر کیا ہے ایسے لوگوں کا پتہ لگاکر ان کے خلاف ضرورکارروائی کرے گی۔ ایسے کسی شخص کو چھوڑا نہیں جائے گاجو اس میں شامل ہوںگے۔ واضح ہو کہ دونوں ضلعوں میں تشدد کے بعد دفعہ 144نافذ ہے اور انٹرنیٹ بھی بند کردیا گیا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ نالندہ اور روہتاس دو دو ایف آئی آر درج کر کے شرپسندوں کی نشاندہی کر کے بالترتیب 27اور18لوگوں کی گرفتار ی کی گئی ہے۔ یہ شرارت جان بوجھ کر کی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔ ہم لوگوں نے کہا ہے کہ اس کا پتہ لگانے کے لیے مکمل تحقیقات کی جائیں۔اس کے ساتھ ہی نتیش کمار نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ بہار کی منسوخی کے بعد بھی اپنا ردعمل دیا۔ نتیش نے کہا کہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پٹنہ کیوں آرہے ہیں اور وہ اب کیوں نہیں آرہے ہیں، انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم لوگ کسی بھی مرکزی وزیر کو مناسب سیکورٹی دیتے ہیں۔امت شاہ کے دورہ کو لے کر ریاستی حکومت نے بھی کافی سیکورٹی دی تھی۔ حکومت پورے واقعہ پر نظر رکھے ہوئے ہے۔دراصل رام نومی کے بعد جمعہ کے روز بہار کے دو اضلاع نالندہ اور سہسراممیں تشدد ہوا تھا۔ جس کے بعد کئی گاڑیوں ، دکانوں اور گھروں میں آگ لگا دی گئی۔ واقعے کے بعد حرکت میں آئی پولیس اور اعلیٰ حکام نے دونوں مقامات پر حالات کو قابو میں کر لیا ہے۔ حالانکہ ماحول بدستور کشیدہ ہے۔ دفعہ 144 تاحال نافذ ہے اور انٹرنیٹ سروس بحال نہیں ہو سکی ہے۔ تمام سینئر پولیس افسران صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں اضلاع کو پولیس چھاؤنیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں نالندہ اور روہتاس میں دو دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ نالندہ میں 27 اور روہتاس میں 18 گرفتاریاں ہوئی ہیں۔