Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 04 APRIL
ممبئی ، 04 اپریل : باگیشور دھام کے مہنت دھیریندر کرشنا شاستری کے خلاف باندرہ پولس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں مہاراشٹر کے مشہورتیرتھ شرڈی کے سائیں بابا کے بارے میں متنازعہ بیان دیا گیا ہے۔ یہ شکایت شرڈی سائیں سنستھان کے سابق ٹرسٹی راہل کنال نے درج کرائی ہے۔ اس شکایت کے بعد باگیشور بابا دھیریندر کرشنا شاستری کی مشکلات میں اضافہ ہونے کی امید ہے۔راہل کنال نے کہا کہ مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع میں واقع شرڈی میں سائیں بابا کا مندر ہے۔ اس مندر میں کروڑوں سے زیادہ عقیدت مند سائیں بابا کے درشن کرتے ہیں لیکن باگیشور بابا دھیریندر کرشنا شاستری نے سائیں بابا کے بارے میں غلط اور متنازعہ بیان دے کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے دھیریندر کرشنا شاستری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔
دراصل کچھ دن پہلے عقیدت مندوں نے دھیریندر شاستری سے پوچھا تھا کہ کیا سائیں بابا کی پوجا کرنی چاہیے یا نہیں ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے دھریندر شاستری نے کہا کہ شنکراچاریہ نے سائی بابا کو بھگوان کا درجہ نہیں دیا ہے ، اس لیے ہمارے لیے شنکراچاریہ کی رائے پر عمل کرنا لازم ہے۔ یہ ہر سناتنی کا فرض ہے ، کیونکہ شنکراچاریہ دھرم کے وزیر اعظم ہیں۔ اس لیے سائیں بابا کو خدا کا مقام نہیں دیا جا سکتا۔ نیز ’تمام لوگ جیسے تلسی داس اور سورداس دیوتا نہیں ہیں بلکہ عظیم انسان اور سنت ہیں۔ میں کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا لیکن یہ سچ ہے۔ سائیں بابا بھگوان نہیں ہیں۔ سائیں بابا کو ہم سنت اور فقیر کہہ سکتے ہیں۔ دھریندر شاستری کے اس متنازعہ بیان کے خلاف شرڈی کے گاؤں والوں نے سخت احتجاج درج کرایا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاراشٹر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے۔