Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 04 APRIL
نئی دہلی ،4اپریل:چین نے اپنے نقشے میں اروناچل پردیش کے 11 مقامات کے نام تبدیل کیے ہیں۔ چین نے گزشتہ 5 سالوں میں تیسری بار ایسا کیا ہے۔ اس سے قبل 2021 میں چین نے 15 اور 2017 میں 6 مقامات کے نام تبدیل کیے تھے۔ہندوستانی وزارت خارجہ نے چین کے اس اقدام کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا ہے کہ ہمیں پہلے بھی چین کی اس طرح کی حرکات کی خبریں مل چکی ہیں۔ ہم ان نئے ناموں کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ انگ تھا، ہے اور رہے گا۔ اس طرح نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلے گی۔چین نے اروناچل پردیش کے ناموں کی فہرست پہلی بار 2017 میں جاری کی تھی۔ اس کے بعد دوسری فہرست 2021 میں جاری کی گئی۔ سال 2017 میں دلائی لامہ ہندوستان کے دورے پر آئے تھے، اس دوران چین نے پہلی فہرست جاری کی۔ چین-ہندستان سرحدی تنازعہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ لیکن یہ تنازع گزشتہ چند سالوں میں زیادہ گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ طویل عرصے سے اپوزیشن ایل اے سی تنازعہ پر مرکز کی مودی حکومت سے سوال پوچھ رہی ہے لیکن حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ کئی بار اپوزیشن نے حکومت سے پارلیمنٹ میں اس مسئلہ پر بحث کا مطالبہ بھی کیا لیکن حکومت نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ “چین نے تیسری بار اروناچل میں ہمارے علاقوں کا نام بدلنے کی جرآت کی ہے۔21 اپریل، 2017 – 6 جگہ،30 دسمبر 2021 – 15 جگہ،3 اپریل 2023 – 11 جگہ،اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور رہے گا۔ گلوان کے بعد مودی جی کے ذریعہ چین کو کلین چٹ دینے کا خمیازہ ملک بھگت رہا ہے۔