Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 13 APRIL
کاروار 13 / اپری:بی جے پی کو ضلع شمالی کینرا میں کامیابیوں کی بلندیوں تک لے جانے میں اننت کمار ہیگڈے کا جو کردار رہا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بھٹکل میں مسلم مخالف فسادات کی خونریز فضا سے اٹھنے والی اننت کمار ہیگڈے اور اس کے حواریوں کی ٹیم نے پورے ضلع میں ہندو جاگرن ویدیکے کے بینر تلے نہ صرف اپنی چھاپ قائم کی بلکہ پوری نوجوان نسل کو ہندوتوا وادی سوچ کے زہر سے مسموم کردیا۔اس کے نتیجے میں تب سے اب تک اس علاقے میں بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کی فصل کاٹ رہی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ شمالی کینرا میں اننت کمار ہیگڈے کی فرقہ وارانہ منافرت والی اشتعال انگیز شخصیت کٹر ہندوتوا کی علامت بن گئی اور وہ سیاسی طور پر بھی ضلع میں اپنا مضبوط اور مستحکم مقام بنانے کے ساتھ بی جے پی ہائی کمان میں بھی اپنی پکڑ بنائے رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ضلع میں اپنی پسند کے امیدواروں کو ٹکٹ دلانے میں اکثر و بیشتر کامیاب رہا۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں ضلع کے چھ حلقوں میں سے کاروار، بھٹکل اور ہلیال جیسے تین حلقوں میں ہائی کمان نے اننت کمار ہیگڈے کے پسندیدہ امیدوار ہی میدان میں اتارے تھے۔کچھ عرصے پہلے تک پارٹی ہائی کمان کے ساتھ اننت کمار ہیگڈے کا اثر و رسوخ اور عمل و دخل اتنا زبردست تھا کہ اسے مستقبل میں ریاست کے ممکنہ وزیر اعلیٰ کی شکل میں دیکھا جانے لگا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہائی کمان کے پاس اننت کمار ہیگڈے کا اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے۔ کسی نامعلوم بیماری کی وجہ سے اننت کمار ہیگڈے کی چلت پھرت ضلع میں روز بروز کم ہوتی گئی اور سیاسی سرگرمیاں یا سوشیل اسٹیج پر اس کی موجودگی کم سے کم تر ہوگئی۔ اسی دوران وقتاً فوقتاً خود اننت کمار ہیگڈے نے عملی سیاست سے دور ہونے کی بات بھی کہی جس سے سمجھا جانے لگا کہ اب اننت کمار ہیگڈے کے چراغ میں تیل کم ہوگیا ہے اور وہ شاید ٹمٹمانے لگا ہے۔ سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت ضلع شمالی کینرا کے چھ اسمبلی حلقوں کے لئے بی جے پی نے جن امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے کہ اسے دیکھنے پر ہائی کمان کے پاس اب اننت کمار ہیگڈے کا اثر و رسوخ نہ چلنے گرفت ڈھیلی ہونے اور عمل و دخل بالکل ہی کم ہونے کی بات ثابت ہوجاتی ہے ، کیونکہ مبینہ طور پر کم از کم تین حلقوں کے لئے لاکھ کوشش کے باوجود اپنی پسند کے امیدواروں کو ٹکٹ دلانے میں اننت کمار ہیگڈے کو پوری طرح ناکامی ہوئی ہے۔ سب سے پہلے بھٹکل حلقہ کی بات کریں تو گزشتہ الیکشن میں ہارڈ کور ہندوتواوادی اور اننت کمارہیگڈے کے لیفٹننٹ سمجھے جانے والے گووندا نائک کی ٹکٹ کے لئے مضبوط دعویداری پس پشت ڈال کر اچانک سامنے آنے والے سنیل نائک کو اننت کمار ہیگڈے نے ہی آگے بڑھایا تھا اور الیکشن میں سنیل کی کامیابی کو یقینی بنایا تھا۔ اسی لئے سنیل نائک اْسے کھلے عام اپنا ‘پولیٹکل گرو’ مانتا ہے۔
لیکن کہا جاتا ہے کہ اب سنیل کے ساتھ ہیگڈے کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ اس لئے اننت کمار ہیگڈے چاہتا تھا کہ اس مرتبہ کسی بھی قیمت پر سنیل کو ہٹا کر اپنے پرانے ساتھی اور لیفٹننٹ گووندا نائک کو ٹکٹ دلایا جائے۔ اس کے لئے اس نے بھرپور کوشش کی مگر اس بار ہائی کمان نے اس کی بات پر کان نہیں دھرا۔ دوسری طرف چیلے سنیل نائک نے بھی سیاسی پینترے بازی کی اور اپنے ‘سیاسی گرو’ اننت سے دور کھسکتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر نلین کمار کٹیل کا دامن اس طرح تھام لیا کہ لاکھ رکاوٹوں کے بعد بھی اننت کمارہیگڈے کے گھوڑے گووندا نائک کو پیچھے چھوڑ دیا اور نلین کمار کے کاندھے پر سوار ہو کر ٹکٹ حاصل کرنے کی ریس جیت لی۔ اس طرح اننت کمار ہیگڈے کو اپنی ‘سیاسی جنم بھومی’ اور ‘ فرقہ وارانہ منافرت کی کرم بھومی’ بھٹکل – ہوناور حلقہ میں اپنی پسند کا امیدوار کھڑا کرنے میں ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔