! آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2 MAY

بہار میں اساتذہ کی تقرری کےضابطے ریاستی حکومت کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ 2005 سے اب تک پنچایتوں اور شہری اداروں کی طرف سے کنٹریکٹ پر تعینات 3 لاکھ 50 ہزار اساتذہ سرکاری عہدوں کے منتظر تھے۔ تقریباً اتنی ہی تعداد میں اساتذہ کی تقرری ہونی تھی۔ ہر کوئی اس بات کا انتظار کر رہا تھا کہ اگر حکومت نئے ضابطے لائے گی تو ان کی بہت سی امیدیں پوری ہو جائیں گی۔ حکومت نے پچھلے ماہ ضوابط کا اعلان کیا لیکن اساتذہ بننے کی امید رکھنے والے امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ ان ضوابط کی وجہ سے نہ صرف کنٹریکٹ اساتذہ سرکاری ملام نہ بن سکے بلکہ حکومت نے ٹی ای ٹی یا سی ٹی ای ٹی پاس امیدواروں کے لیے بھی بڑا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔ بہار پبلک سروس کمیشن اساتذہ کی تقرری کے لیے اشتہار نکال کر امتحان لے گا۔ کمیشن پاس کرنے والے امیدوار ہی سرکاری اساتذہ بن سکیں گے۔ اس کے لیے انہیں صرف تین مواقع ملیں گے۔ اگر وہ تین کوششوں میں بھی امتحان پاس نہیں کر پاتے ہیں تو اساتذہ کی تربیت او رٹی ای ٹی یا سی ٹی ای ٹی امتحان میں ان کی کامیابی کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیچر ریکروٹمنٹ رولز کی ہر طرف مخالفت ہو رہی ہے۔
یوم مزدور (یکم مئی) پر ریاست بھر کے اساتذہ نے اساتذہ کی بھرتی کے نئےضابطے کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ کنٹریکٹ اساتذہ کا علامتی احتجاج تھا۔ تحریک کے اگلے مرحلے کا خاکہ ٹیچرز یونین طے کرے گی۔ گرینڈ الائنس حکومت میں شامل بائیں بازو کی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی تقرری کے قوانین پر سخت اعتراضات جتائے ہیں۔ بائیں بازو کے لیڈروں کا ایک وفد وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے اپنا اعتراض درج کرے گا۔
ؑؑ عظیم اتحاد حکومت میں شامل سی پی آئی، سی پی ایم اور سی پی آئی (ایم ایل) جیسی بائیں بازو کی پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد لیڈروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں نئے ٹیچر مینول کی دفعات پر سخت اعتراض کیا گیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بہار ٹیچر ریکروٹمنٹ رولز-2023 میں برسوں سے کام کرنے والے ملازم اساتذہ کو سرکاری ملازم کا درجہ دینے کا فیصلہ اچھا ہے، لیکن اس اصول میں ریاستی کارکن کا درجہ دینے کی شرط ٹیڑھی ہے۔ اس کے لیے بہار پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیا جانے والا امتحان پاس کرنے کی شرط شامل کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے بہار کے لاکھوں ملازم اساتذہ خوفزدہ ہیں۔بہار کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے میں ان اساتذہ کے تعاون سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بائیں بازو کی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ تمام ملازم اساتذہ کو بغیر کسی امتحان کے براہ راست ریاستی ملازمین کا درجہ دیا جائے۔ یہ عظیم اتحاد کے 2020 کے منشور کے مطابق ہوگا۔ سی ایم نتیش کمار اور ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو کو نئے ٹیچر مینول پر اساتذہ تنظیموں اور امیدواروں کے اعتراضات کا نوٹس لینا چاہئے۔ ملازم اساتذہ نے 17 سال انتظار کیا۔
ادھرحکومت نے تین لاکھ اساتذہ کی تقرری کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس کے لیے ٹیچر امیدوار کو پہلے ٹیچر ٹریننگ کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔ اس کے بعدٹی ای ٹی یا سی ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنا ضروری ہوگا۔ پھران کو بہار پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرنا ہوگا۔ یہ سب کرنے کے بعد امیدوار کو سرکاری ٹیچر کا درجہ مل جائے گا ،لیکن اس کا پے سکیل صرف 40 ہزار سے 50 ہزار کے درمیان ہوگا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ جو امیدوار ٹیچر بننے کا خواب دیکھ رہے تھے، انہیں تقرری کے اس نئے ضابطے سے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ اس کو لیکر بہار میںسیاست تیز ہو گئی ہے۔بہار قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف وجے کمار سنہا کا کہنا ہے کہ حکومت کو ٹیچر امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا بند کرنا چاہیے۔ انہوں نے نئے تعلیمی ضابطےکے خلاف اساتذہ کے احتجاج کی اخلاقی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ اہلیت کا امتحان پاس کرنے والے امیدواروں کی براہ راست تقرری کرے۔ ان کی تقرری کے بعد، ریاستی حکومت کو بہار پبلک سروس کمیشن کو بقیہ خالی عہدوں پر تقرری کی کارروائی کرنے کی ذمہ داری دینی چاہئے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو بیشتر اسکولوں کو جلد سے جلد اساتذہ مل جائیں گے۔بصورت دیگر کافی تاخیر ہو جائیگی۔لیکن حکومت اساتذہ کی تقرری میں کوالیٹی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی ہے۔حکومت بہار اساتذہ تقرری کے معاملے میں ’’دیر آید درست آید‘‘ کے فارمولے پر کام کرنا چاہتی ہے۔حکومت کے اس قدم کی بہار کی ایک بڑی آبادی کی حمایت بھی حاصل ہے۔اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا !
**********************