اردو کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے : شفیع مشہدی

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –18  MAY

مظہر امام کی شاعری انقلاب اور رومانیت کا کامیاب امتزاج ہے : علیم اللہ حالی
پرویز شاہدی اور مظہر امام نے قومی و بین الاقوامی سطح پر بہار کا نام روشن کیا :احمدمحمود

پٹنہ (پریس ریلیز) محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، اردو ڈائرکٹوریٹ، بہار ،پٹنہ کے زیر اہتمام بہار اسٹیٹ آرکائیو ڈائرکٹوریٹ(ابھیلیکھ بھون) نہرو پتھ، بیلی روڈ، پٹنہ کے احاطے میں واقع کانفرنس ہال میں پرویز شاہدی و مظہر امام مشترکہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب دو اجلاس پر مشتمل تھا۔ پہلی یادگاری تقریب میں پرویز شاہدی کو خراجِ عقیدت پیش کیاگیا ۔ اس تقریب کی صدارت شفیع مشہدی ، سابق صدر نشیں، اردو مشاورتی کمیٹی، بہار، پٹنہ نے کی جبکہ مظہر امام یادگاری تقریب کی صدارت پروفیسر علیم اللہ حالی ، سابق صدر شعبہ اردو، مگدھ یونیورسٹی، گیا نے کی ۔ تقریب کا آغاز شمع افروزی کے ذریعہ ہوا۔ پرویز شاہدی کا شمار بہار کے ان چند بڑے شعراء میں ہوتا ہے جنہیں بہار کے شعر و ادب کی آبرو کہا جاتا ہے۔ وہ ترقی پسند شعراء میں صفِ اوّل کے شاعر تسلیم کئے جاتے ہیں۔ وہ ترقی پسند نظریات میں یقین رکھنے والے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے حاشیہ پر پڑے ہوئے لوگوں کے دُکھ درد کو اپنی روح میں جذب کیا اور پھر فنکارانہ حسن کے ساتھ اسے شاعری کا روپ دے کر دنیائے اردو ادب کے سامنے پیش کر دیا۔ پرویز شاہدی نے بیک وقت نظم اور غزل دونوں صنفوں کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا ۔ ان کی نظمیں جس قدر خوبصورت اور مؤثر ہیں ان کی غزلیں بھی اسی قدر فکر و فن کا نادر امتزاج ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد ذاکرحسین،معروف ناقد و ادیب،پٹنہ، ڈاکٹر محسن رضا رضوی،صدرشعبہ اردو، اورینٹل کالج، پٹنہ سیٹی،پٹنہ اور ڈاکٹر سید احمد قادری، معروف ناقد و ادیب، گیا نے اپنے قیمتی اور معلوماتی مقالے میں کیں ۔ اس سے قبل استقبالیہ و تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر احمد محمود نے دونوں یادگاری تقریبات کے صدور محترم ،مقالہ خواں حضرات ،پریس کے نمائندگان ، اسکول و کالج سے آئے ہوئے طلبا و طالبات اور تمام مہمانوں کا والہانہ استقبال کیا۔ تقریب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان یادگاری تقریبات کے انعقاد کا مقصد جہاں ان ادباء و شعراء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے وہیں اسلاف کے عظیم ادبی خدمات سے نئی نسل کو متعارف کرانا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِس نئے مالی سال کا یہ پہلا یادگاری پروگرام ہے ۔عید الضحیٰ سے قبل یا اس کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر جشن اردو کا پروگرام منعقد کرنے کی کاروائی چل رہی ہے۔یہ پروگرام آپ لوگوں کے مشورے اور نگرانی میں منعقد کیا جائے گا۔پرویز شاہدی کے تعلق سے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم آباد کی شان تھے۔ انہوں نے پورے صوبے کا نام قومی و بین الاقوامی سطح پر روشن کیا۔ وہ بیک وقت کئی زبانوں اردو، عربی، فارسی، ہندی، انگریزی اور بنگلہ کے ماہر تھے۔ ڈائرکٹر موصوف نے مظہر امام کے تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ بچپن سے ہی شعر و شاعری سے دلچسپی رکھتے تھے۔جنگ آزادی میں انگریزی حکومت کی نظر شاعروں پر ہوتی تھی کیوں کہ ایک شعر کے ذریعہ ہی وہ نوجوانوں میں جوش و ولولہ اور انقلاب پیدا کردیتے تھے۔ جس سے انگریزی حکومت بہت پریشان ہوا کرتی تھی۔شفیع مشہدی نے پرویز شاہدی پر پڑھے گئے تینوں مقالوں پر جامع تبصرہ پیش کیا۔ انہوں نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پرویز شاہدی غزل کے مقابلے میں نظم کے اچھے شاعر تھے۔ ترقی پسند شاعری کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو پرویز شاہدی کے ذکر کے بغیر نا مکمل ہوگی۔ پرویز شاہدی کو زندہ رکھنا ہے تو اردو کو زندہ رکھنا ہوگا اوراردو زندہ رہے گی تو پرویز شاہدی زندہ رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لئے عوامی سطح پر اردو کو پھیلانے اور زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری اجلاس میں مظہر امام کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مظہر امام عصر حاضر کے ممتاز شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے نظمیں اور غزلیں دونوں کہیں ہیں۔ اپنی شاعری کی ابتدائی دور میں وہ ترقی پسند تحریک سے متاثررہے۔ لیکن آگے چل کر اپنی منفرد راہ بنائی اور اپنے معاصرین سے مختلف دکھائی دینے میں کامیاب رہے۔ مظہر امام کے مخصوص لب و لہجے اور منفرد انداز نے جس روایت کی بنیا دڈالی اس کے سبب ان کا ذکر قدآور شاعروں میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین شاعری اور بیش قیمت نگارشات کے توسط سے ملک اور بیرون ملک میں بہارکا نام روشن کیا۔ ان کی شعری و ادبی خدمات پر سر زمین بہار ہمیشہ فخر کرے گی۔ مذکورہ باتیں اس نشست کے تینوں مقالہ خواں ڈاکٹر سید اشہد کریم،صدر شعبہ اردو، ایس۔وی۔پی۔کالج،کیمور(بھبھوا)، جناب فخر الدین عارفی،معروف افسانہ نگارو ناقد، پٹنہ اور پروفیسر حامد علی خان، شعبۂ اردو، بی۔آر۔ اے۔ بہار یونیورسٹی، مظفرپورنے اپنے مقالے میں مشترکہ طور پر کہیں۔ مظہر امام یادگاری تقریب کے صدر پروفیسر علیم اللہ حالی نے پڑھے گئے مقالوں پر تبصرہ پیش کیا۔ انہوں نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ مظہر امام نے ترقی پسند ی کو رومانی لہجہ کے ذریعے ایک نئی شکل دینے کی کامیاب کوشش کی۔ ان کی شاعری انقلاب اور رومانیت کا کامیاب امتزاج ہے۔ مظہر امام نے منظومات کے سلسلے میں ہیئتی تجربات پر خاص طور پر توجہ دی اور غزل کے سلسلے میں آزاد غزل کی ایجاد کرکے ادبی دنیا میں تہلکا مچا دیا۔اس خاص موقع پرپرویز شاہدی کے خانوادے سے تعلق رکھنے والے اشتیاق یوسف، جمال یوسف اورسبکدوش آئی۔اے۔ ایس۔ افسراحسان احمد کی شال پوشی کرکے عزت افزائی کی گئی۔ تقریب کی نظامت حسیب الرحمن انصاری نے بخوبی انجام دیا۔ اردو ڈائرکٹوریٹ کے ڈائرکٹر احمد محمود کے تشکراتی کلمات پرتقریب کا اختتام ہوا۔