اسپتال نے ایمبولینس دینے سے منع کردیا تو مجبوراًباپ نے بیٹی کی لاش بائیک پر لے جانے کو مجبور

TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –17  MAY

بھوپال ،17مئی: مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی شہر شاہڈول سے انسانیت کو ہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ یہاں ایک باپ کو اپنی بیٹی کی لاش کو موٹر سائیکل پر لے جانا پڑا کیونکہ ہسپتال نے مبینہ طور پر ایمبولینس فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس واقعہ سے متعلق کچھ تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ کیس کی اطلاع ملتے ہی کلکٹر وندنا ویدیا نے متاثرہ کے اہل خانہ سے رابطہ کیا اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ پیر کی رات کوٹا گاؤں میں 13 سالہ مادھوری گونڈ، جو سکیل سیل انیمیا میں مبتلا تھی، کی موت ہوگئی۔مادھوری کے والدین نے اپنی بیٹی کی لاش کو ان کے گاؤں لے جانے کے لیے ایمبولینس انتظام کرنے کی کوشش کی، لیکن مبینہ طور پر انھیں بتایا گیا کہ قواعد کے مطابق 15 کلومیٹر کے فاصلے پر گاڑی مل سکتی ہے، جب کہ ان کا گاؤں اسپتال سے 70 کلومیٹر دور ہے۔ غریب رشتہ دار پرائیویٹ گاڑی کی قیمت برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے وہ لاش کو موٹر سائیکل پر رکھ کر چلے گئے۔ لیکن جیسے ہی موٹرسائیکل شہر سے باہر آئی، کسی نے کلیکٹر وندنا ویدیا کو فون کرکے رات ہی اس کی اطلاع دی۔ کلیکٹر وندنا ویدیا نے خود آدھی رات کو میت لے جانے والے لواحقین کو روکا اور سول سرجن کی سرزنش کی اور لاش کو فوری بھیجنے کی ہدایت دی۔ سول سرجن ڈاکٹر جی ایس پریہار بھی خود وہاں پہنچے۔ کلکٹر نے متاثرہ خاندان کو کچھ مالی مدد بھی فراہم کی۔متاثرہ کے والدین کولاش فراہم کر کے ان کے آبائی گاؤں روانہ کر دی گئی۔ قبائلی اکثریتی شاہڈول سے کئی بار لاشیں اٹھانے کی دردناک اور افسوسناک تصویریں کبھی چارپائیوں پر، کبھی لکڑی کے تختوں پر، کبھی سائیکلوں پر، کبھی بائیک پر، منظر عام پر آتی رہتی ہیں۔