Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 2 MAY
واشنگٹن،2مئی: امریکہ کے قرضوں کی حد میں اضافے کے بعد ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایسے میں وزیرِ خزانہ جینٹ یلن نے کانگریس کو آگاہ کیا ہیکہ اگر یکم جون تک قرضوں کی بالائی حد میں اضافہ نہ کیا گیا تو ملک ڈیفالٹ میں جا سکتا ہے۔میڈیا کے مطابق جینٹ یلن نے پیر کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے ارکان کو ارسال کیے گئے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ اگر کانگریس نے قرضوں کی بالائی حد کو معطل یا اس میں اضافہ نہ کیا تو یکم جنون تک ملک کے ڈیفالٹ کی حد تک پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔انہوں نے کانگریس پر زور دیا ہے کہامریکہ کے اعتماد اور کریڈٹ کے تحفظ کے لیے جتنا جلد ممکن ہو اقدامات کیے جائیں۔واضح رہے کہ امریکی حکومت کی قرض حاصل کرنے کی حد 31.4 کھرب ڈالر ہے۔ بعض حکام قرض کی حد میں اضافے پر زور دے رہے ہیں۔وزیرِ خزانہ نے کانگریس ارکان کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ماضی میں بھی قرضوں کی حد میں اضافہ یا قرضوں کی بالائی حد کو معطل کرنے جیسے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں۔ البتہ آخری منٹ میں کیے گئے فیصلے سے کاروباروں اور صارفین کے اعتماد کو دھچکا لگتا ہے۔انہوں نے خط میں مزید کہا کہ” قرض کی حد سے متعلق تاخیر سے کیے گئے فیصلے سے ان لوگوں کی ادائیگی میں اضافہ ہو جاتا ہے جنہوں نے مختصر مدت کے قرضے لیے ہوتے ہیں جب کہ امریکہ کی کریڈٹ ریٹنگ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔”بل کی ایوان سے منظوری کو ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی کی کامیابی کی طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وزیرِ خزانہ کی جانب سے وفاقی ادائیگوں کے لیے کیش کی کمی کے انتباہ کے بعد صدر جو بائیڈن نے کانگریس کے چار رہنمائوں کو آئندہ ہفتے وائٹ ہائوس طلب کر لیا ہے۔خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق صدر بائیڈن نے جن رہنماوں کو مدوع کیا ہے ان میں ہائوس اسپیکر کیون مکارتھی، ہائوس ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفری، سینیٹ میں اکثریتی لیڈر چک شومر اور ری پبلکن رہنما مچ مکونل شامل ہیں۔محکمہ خزانہ نے پیر کو آگاہ کیا تھا کہ چاہے مرکزی حکومت قرضوں کی حد میں اضافہ نہ بھی کرے تو وہ اپریل سے جون تک کی سہہ ماہی میں مزید قرض کا حصول ممکن بنائے گا۔امریکہ کی منصوبہ بندی ہے کہ اس سہہ ماہی میں 726 ارب ڈالرز کے قرض کا حصول ممکن بنائے۔ یہ رقم جنوری کے تخمینے سے 449 ارب ڈالر زیادہ ہے۔