TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 MAY
نئی دہلی، 15 مئی:اڈانی گروپ کو مورگن اسٹینلے کیپٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ایم ایس سی آئی نے اپنے انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس میں تبدیلی کرتے ہوئے اس گروپ کی دو بڑی کمپنیوں اڈانی ٹرانسمیشن اور اڈانی ٹوٹل گیس کو باہر کر دیا ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس سے باہر ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار ان دونوں اسٹاکس سے بڑے پیمانے پر نکل سکتے ہیں۔
جب سے ہنڈنبرگ کی رپورٹ سامنے آئی ہے، اڈانی گروپ کو مسلسل دھچکا لگا ہے۔ ایم ایس سی آئی کی طرف سے کی گئی یہ تبدیلی بھی اڈانی گروپ کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے۔
انڈیا سٹینڈرڈ انڈیکس کے جائزے کے عمل کے دوران ایم ایس سی آئی نے تین کمپنیوں کے حصص کو انڈیکس سے نکال دیا ہے، جبکہ تین کمپنیوں کے حصص کو انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل)،میکس ہیلتھ کیئر اورسونا بی ایل ڈبلیو پریسیشن کو ریویو پروسیس کے دوران انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس میں شامل کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب اڈانی ٹوٹل گیس، اڈانی ٹرانسمیشن اور انڈس ٹاور کے شیئر کو انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس سے باہر کر دیا گیا ہے ۔
بتادیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ہندوستانی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرنے یا حصص سے اپنا پیسہ نکالنے کے لیے ایم ایس سی آئی کے انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس کا سہارا لیتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار انڈیکس میں شامل اسٹاک میں زیادہ سرمایہ کاری کرتے ہیں، جب کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان اسٹاکس سے نکلنا شروع کردیتے ہیں جو انڈیکس سے باہر ہیں۔
پرشانت دھامی، نائب صدر، دھامی سیکیورٹیز کے مطابق، انڈیا اسٹینڈرڈ انڈیکس میں ایم ایس سی آئی کی طرف سے کی گئی تبدیلیوں کی وجہ سے، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے حصص 200 ملین تک کی نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، میکس ہیلتھ کیئر کے حصص میں 295 ملین تک اور سونا بی ایل ڈبلیو پریسین کے حصص میں 180 ملین تک کی تازہ غیر ملکی سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ اسی طرح غیر ملکی سرمایہ کار اڈانی ٹوٹل گیس کے حصص سے تقریباً 190 ملین ڈالر نکال سکتے ہیں۔ وہیں غیر ملکی سرمایہ کار اڈانی ٹرانسمیشن کے حصص سے تقریباً 200 ملین ڈالر اور انڈس ٹاور کے حصص سے تقریباً 85 ملین ڈالر نکال سکتے ہیں۔