Taasir Urdu News Network – Syed M Hassan 3 MAY
واشنگٹن،3مئی: صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے طالبان حکومت سے جان بچا کر دو سال قبل امریکہ میں پناہ لینے والے ہزاروں افغانوں کو مزید دو سال ملک میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔خبر رساں ادارے “ایسو سی ایٹڈ پریس” کے مطابق یہ فیصلہ کانگریس میں ان افغان مہاجرین کی امیگریشن حیثیت کو مستقل طور پر حل کرنے کی کوششوں کے رک جانے کے پیش نظر کیا گیا ہے۔امریکی انتظامیہ کے دو اہل کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ اس موسم گرما سے اہل افغان پناہ گزین اپنے عارضی ورک پرمٹ اور ملک بدری سے تحفظات کی مزید دو سال کے لیے تجدید کرا سکیں گے۔2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ا?نے والے افغان مہاجرین کو امریکہ میں رہنے کی اجازت اور امیگریشن تحفظات اسی سال دیے گئے تھے اور پچھلے سال ان کی تجدید کی گئی تھی۔خبر کے مطابق امریکہ کا ہوم لینڈ سکیورٹی محکمہ اس سلسلے میں متوقع طور پر رواں ہفتے کے ا?خر میں اعلان کرے گا۔امریکی انتظامیہ کا یہ اقدام 76000 سے زیادہ ان افغانوں کے لیے ایک عارضی حل ہے جو امریکی فوجیوں کے افغانستان سے افراتفری اور ہلاکت خیز انخلاء کے بعد امریکہ پہنچے تھے۔امریکہ آنے والے افغان شہریوں میں سے بہت سے امریکی حکام کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ کچھ نے کئی برسوں تک، مترجم، ترجمان اور دیگر شراکت داروں کے طور پر کام کیا۔امیگرنٹ ایڈووکیٹ گروپس اور وہ سابق فوجی جو حکومت کے ساتھ مل کر افغانوں کے لیے مزید مستقل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس اقدام کو معمولی مگر کچھ نہ ہونے سے بہتر قرار دے رہیہیں۔خیال رہے کہ امریکی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کو “ا?پریشن ایلائیز ویل کم” کے تحت عارضی طور پر امریکہ آنے دیا تھا۔افغانوں کی امریکہ آمد کو دہائیوں میں ملک میں آبادکاری کی سب سے بڑی کوشش قرار دیا گیا ہے جس کا مقصد افغان مہاجرین کو ان کی امریکہ کے لیے خدمت کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ میں زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ادھر امریکی کانگریس میں قانون سازوں کے ایک دو طرفہ گروپ نے دسمبر میں سال کے آخر میں حکومتی فنڈنگ پیکج کے حصے کے طور پر ان افغان مہاجرین کی امیگریشن کی حیثیت کو حل کرنے کی امید ظاہر کی تھی۔اس تجویز کے مطابق افغان پناہ گزین اپنی عارضی امیگریشن حیثیت ختم ہونے پر رواں سال اگست میں امریکی شہریت کے لیے درخواست دینے کے اہل ہوتے۔