TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –15 MAY
بنکاک، 15 مئی: تھائی لینڈ کے عام انتخابات میں فوجی حکمرانی کے خلاف اپوزیشن جماعتیں ایک بڑی طاقت بن کر ابھر رہی ہیں۔ اس سے یہ امید بندھی ہے کہ ایک دہائی سے برسراقتدار فوج کی حمایت یافتہ حکومت کی وداعی ہو سکتی ہے ۔
تھائی لینڈ میں اتوار کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد 99 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے۔ اب تک کی ووٹوں کی گنتی میں اپوزیشن جماعتوں، موو فارورڈ پارٹی اور پھیو تھائی پارٹی نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے ووٹروں سے فوجی حکمرانی سے آزادی کا وعدہ کیا تھا۔ اس الیکشن میں بادشاہت کی توہین قانون میں اصلاحات اور صاف -صفائی جیسے مدعے بھی اہم رہے ۔
مکمل انتخابی نتائج آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات بتاتے ہیں کہ موو فارورڈ پارٹی 400 میں سے 113 سیٹیں جیت سکتی ہے اور پھیو تھائی پارٹی تقریباً 112 سیٹیں جیت سکتی ہے۔ 100 نشستوں کوپارٹیوں کے ووٹ فیصد کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا۔
پھیو تھائی پارٹی ملک کی قدیم ترین جماعتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بانی ارب پتی صنعت کار تھاکسن شیناواترا ہیں۔ تھاکسن شیناواترا ایک بار وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی رشتہ دار ینگ لک شیناواترا نے بھی ملک کی باگ ڈور سنبھال چکی ہیں۔ دونوں بار فوج ان دونوں کو اقتدار سے بے دخل کر چکی ہے۔ اب تھاکسن کی بیٹی پیتونگارن شیناواترا وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ موو فارورڈ پارٹی کے رہنما لمجارونارت بھی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں ہیں۔ دونوں جماعتوں نے اتحاد کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔