TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN –29 MAY
استنبول ،29مئی:ترکیہ میں صدارتی انتخابات کے دوسرے اور حتمی مرحلے میں صدر رجب طیب اردغان نے کامیابی حاصل کر لی ہے جو ان کے اقتدار کی تیسری دہائی کا آغاز ہے۔اتوار کو ترکیہ میں صدارتی انتخابات کے رن آف مرحلے کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں پانچ کروڑ 21 لاکھ افراد نے ووٹ ڈالے۔ ووٹنگ ٹرن آؤٹ 85.71 فی صد رہا۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کیعہدہ داروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمارکے مطابق صدر ایردوان نے 52.1 فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں جب کہ ان کے مقابل امیدوار اور حزبِ اختلاف کے رہنما کمال کلیچ دار اولو کو 47.9 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہو سکی۔کمال کلیچ دار اولو نے ان انتخابات کو برسوں میں ہونے والے سب سے غیر منصفانہ الیکشن قرار دیا تاہم انتخابی نتائج سے اختلاف نہیں کیا۔ترکیہ میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کلیچ دار اولو نے رات گئے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے قومی اتحاد کی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔روز نامے حریت کی رپورٹ کے مطابق نہوں نے مزید کہا کہ وہ عوام کے حقوق پامال ہونے پر کبھی بھی خاموش نہیں رہیں گے۔ ان کے بقول وہ اس بات کو کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے کہ لاکھوں پناہ گزینوں کے ترکیہ آجانے کے بعد یہاں کے شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے۔انہوں نے انتخابات میں اصل ہیرو نوجوانوں اور خواتین کو قرار دیا۔خیال ہے ان انتخابات کو صدر اردوغان کے لیے ان کے سیاسی کریئر کا مشکل ترین مرحلہ قرار دیا جا رہا تھا کیوں کہ ترکیہ کے معاشی حالت خراب ہوتے جا رہے ہیں جب کہ افراطِ زر سے لوگوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔رجب طیب اردغان کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے دوبارہ انتخاب کے بعد وہ اسی پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھیں جس کے تحت انہوں نے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا اور جمہوری اقدار کو نقصان پہنچایا۔ ایردوان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔اپنی کامیابی کے بعد دارالحکومت انقرہ میں اپنے حامیوں سے خطاب میں رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ وہ عہد کرتے ہیں کہ تمام تنازعات کو پیچھے چھوڑ کو وہ اپنی اقدار کے مطابق قوم کو متحد کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے مخالف امیدوار پر اس تقریر میں تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمال کیچ دار اولو نے دہشت گردوں کی حمایت کی۔رجب طیب ایردوان کا کہنا تھا کہ کردوں کی جماعت کے سابق رہنما صلاح الدین دیمرتش کو، جنہیں دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے، ان کی حکمرانی میں رہائی ملنا ممکن نہیں ہے۔