TAASIR NEWS NETWORK- SYED M HASSAN 4 MAY
میزورم کے وزیر اعلی نے امپھال تشدد پر منی پور کے اپنے ہم منصب سے کی بات
امپھال، 04 مئی:منی پور میں پُرتشدد واقعات کے بعد 8 اضلاع میں کرفیو نافذ کر کے فوج کو بھی تعینات کردیا گیا ہے۔ منی پور میں 5 روز کے لیے انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی اور اجتماعات پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔ریاستی دارالحکومت اِمپھال میں بھی متعدد گرجا گھر اور مکان نذرِ آتش کردیے گئے جس میں کئی لوگوں کے جھلس جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق غیر قبائلی آبادی کی جانب سے قبائلی درجے کے مطالبے پر منی پور میں فسادات ہوئے، غیر قبائلی آبادی کے مطالبے کے خلاف قدیم قبائلیوں کی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں۔منی پور کے دارالحکومت امپھال میں ہونے والے بڑے تشدد پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے، جہاں متعدد گاڑیوں اور کئی عبادت گاہوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے چوراچند پور اور امپھال ہیں۔ان حالات پر میری کوم نے ٹویٹ کیا: میری ریاست منی پور جل رہی ہے، برائے مہربانی مدد کریں، اس معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ سے فوری کارروائی کی درخواست ہے۔میزورم کے وزیر اعلی زورمتھنگا نے آج اپنے منی پور کے ہم منصب این بیرن سنگھ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی اور انہیں خط لکھ کر امن کی بحالی پر زور دیا۔زورمتھنگا نے کہا کہ بیرن سنگھ سے بات کرنے کے علاوہ انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ کے ایک سینئر افسر سے بھی بات کی ہے، جنہوں نے انہیں منی پور کے لیے مزید سینٹرل آرمڈ پولیس فورس کی یقین دہانی کرائی ہے۔زورمتھنگا نے اپنے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے میزورم کے وزیر داخلہ لالچملیانا اور ہوم کمشنر اور سکریٹری ایچ لالینگماویہ کو پڑوسی ریاست میں زو ہنتھلک (کوکیز) کمیونٹی کی حفاظت کے لیے اقدامات پر غور کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلانے کی بھی ہدایت کی ہے۔مجھے یقین ہے کہ (بیرن سنگھ کے ساتھ) ہماری بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ہم نے بے گناہ لوگوں اور اپنے بھائیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ بیان دینے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے لوگوں سے امن و سکون برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ منی پور میں کوکی زو قسم کے قبائل ہیں جو میزو کے ساتھ نسلی تعلقات رکھتے ہیں۔اپنے خط میں زورمتھنگا نے کہا کہ منی پور میں حالیہ واقعات نے شمال مشرق میں سکون کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ چورا چند پور میں تقریباً 5000 لوگوں کو محفوظ گھروں میں منتقل کیا گیا ہے، مزید 2000 لوگوں کو وادی امپھال میں اور 2000 لوگوں کو تینوگوپال ضلع کے سرحدی قصبے مورہ میں منتقل کیا گیا ہے۔